1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ہاکی ٹیم کی کامیاب یورپ یاترا ، خوش فہمی کی گنجائش نہیں

سابق پاکستانی کپتان اور ماضی کے معروف سینٹر ہاف محمد ثقلین کا کہنا ہے کہ دورہ یورپ میں کامیابی کے بعد بھی پاکستان ہاکی ٹیم کو کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

default

حالیہ دورہ یورپ میں ہالینڈ اور فرانس کی ٹیموں کو ٹیسٹ میچوں میں شکست دینے اور اسپین کے خلاف سیریز برابر کھیلنے پر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ٹیم کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔

اس مبینہ تسلی بخش کارکردگی میں اہم کردار ادا کرنے والے رائٹ آﺅٹ ریحان بٹ نے ریڈیو ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ دورہ یورپ بہت کامیاب رہا اور اس کی وجہ نئے غیر ملکی کوچ مشعل وین ڈین ہیں، جنہوں نے عالمی رینکنگ میں 12 ویں درجے کی ٹیم کو متحد ہوکر کھیلنے کی ترغیب دی۔ ریحان بٹ نے بتایا کہ ڈچ کوچ نے کھلاڑیوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ اکتوبر میں کامن ویلتھ گیمز کو بھی ایشین گیمز کی تیاریوں کا حصہ سمجھا جائے۔

ریحان بٹ کا کہنا تھا کہ ہالینڈ اور اسپین کے بعد اکتوبر میں کامن ویلتھ گیمز میں آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسی بڑی ٹیموں سے کھیل کر پاکستان کے ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیتنے کی راہ ضرور ہموار ہو گی۔

اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق کپتان محمد ثقلین کا کہنا تھا کہ یورپی ٹیمیں کبھی بھی ٹیسٹ میچوں کو سنجیدگی سے نہیں کھیلتی۔ ہالینڈ میں آف سیزن تھا اور اسپین کی ٹیم میں کئی اہم کھلاڑی شامل نہ تھے مگرایشین گیمز اور کامن ویلتھ گیمز میں مقابلے کی فضا ٹیسٹ میچوں کی نسبت باکل مختلف اور سخت ہو گی۔ اس لئے پاکستان کو کسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔

Field Hockey World Cup in Moenchengladbach western Germany

ناقدین کے مطابق یورپی ٹیمیں ٹیسٹ میچوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتی

دہلی کامن ویلتھ گیمز کا تربیتی کیمپ حیران کن طور پر ہالینڈ منتقل کئے جانے پر محمد ثقلین نے ولندیزی فضاﺅں کی دلدادہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر احمقانہ فیصلہ ہے۔ دہلی کا موسم لاہور جیسا ہے اور چین جہاں نومبر میں ایشائی کھیل ہوں گے، وہاں کا موسم پاکستان کے شمالی علاقہ جات جیسا ہے، ان حالات میں ہالینڈ کے سردی میں کیمپ کا انعقاد انتہائی مضحکہ خیز اورمحض پیسے کی بربادی ہوگا۔

فیڈریشن اور کھلاڑیوں دونوں کے لئے ایشین گیمز آخری موقع ہے، اس لئے دونوں نفسیاتی دباﺅ کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاکی میں پہلے ہی پیسہ نہیں اگر یہی دو کروڑ روپیہ کھلاڑیوں کو دے دیں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ کامن ویلتھ اور ایشین گیمز دونوں جیت لائیں گے۔

واضح رہے کہ دو برس قبل حکمران جماعت کے رکن پارلیمنٹ اولمپئن قاسم ضیاء نے ایشین گیمز کو اپنا ہدف قرار دیا تھا، اس لئے ورلڈکپ میں ناکامی کے بعد بھی وہ اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول میں پر امید ہیں مگر اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے ہی والا ہے۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM