1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ہاکی ورلڈ کپ 2010ء: پاکستان پُر اعتماد

عالمی کپ ہاکی ٹورنامنٹ شروع ہونے میں اب محض دو دن باقی رہ گئے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں ہاکی شائقین کی نظریں بھارت اور پاکستان کے درمیان کھیلے جانے والے پہلے میچ پر مرکوز ہیں۔

default

پاکستانی کپتان ذیشان اشرف

اٹھائیس فروری کو نئی دہلی کے دھیان چند نیشنل سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس میچ میں جہاں بھارتی ٹیم کو ہوم کراوٴڈ کا فائدہ ہو سکتا ہے وہیں پاکستانی ٹیم چاہے گی کہ اپنے روایتی حریف کو ہرا کر ٹورنامنٹ میں ایک اچھا اور پُر اعتماد آغاز کرے۔

Pakistanischer Hockeyspieler Sohail Abbas

پینلٹی کارنر سپیشلسٹ سہیل عباس

پاکستان ہاکی ٹیم کے کوچ شاہد علی خان اپنی ٹیم کی تیاری سے پوری طرح مطمئن نظر آ رہے ہیں اور پر اعتماد بھی ہیں کہ پاکستان بھارتی ٹیم کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔’’ہماری ٹیم کے کھلاڑیوں نے اچھی پریکٹس کی ہے اور ان کا فوکس پوری طرح ورلڈ کپ پر ہے۔ ہم چاہیں گے کہ اس ٹورنامٹنٹ کو جیتنے کے لئے اپنی بہترین کارکردگی دکھائیں۔‘‘

چار مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کرنے والی پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے حوصلے اگرچہ بلند نظر آر ہے ہیں تاہم ساتھ ہی انہیں یہ احساس بھی ہے کہ مقابلہ ہرگز آسان نہیں ہے۔

Indien Hockey Team

بھارتی ہاکی ٹیم

پاکستانی ہاکی ٹیم میں کپتان ذیشان اشرف، پینلٹی کارنر سپیشلسٹ سہیل عباس اور ریحان بٹ جیسے مایہ ناز کھلاڑی شامل ہیں۔ پاکستانی مداحوں کو بھی یقین ہے کہ یہ کھلاڑی پاکستان کو پانچواں ورلڈ کپ ٹائٹل دلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

ہیرو ہونڈا ہاکی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں کل بارہ ٹیمیں شریک ہیں، جنہیں دو پولز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جرمنی، ارجنٹائن، کینیڈا،کوریا، ہالینڈ اور نیوزی لینڈ پول ’اے‘ میں ہیں جبکہ بھارت، پاکستان، جنوبی افریقہ، سپین، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ہاکی ٹیموں کو پول ’بی‘ میں رکھا گیا ہے۔

1982ء میں بھارتی شہر ممبئی میں کھیلا جانے والا ورلڈ کپ ٹورنامنٹ پاکستان نے جیتا تھا۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستانی سٹار کھلاڑی حسن سردار نے ریکارڈ گیارہ گول سکور کئے تھے۔ اب اٹھائیس سال بعد پاکستانی ٹیم کو ایک مرتبہ پھر موقع ملا ہے کہ عالمی کپ ہاکی ٹورنامنٹ کا اعزاز بھارت میں ہی حاصل کر سکے۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: مقبول ملک