1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہانگ کانگ میں ہیرے اسمگل کرنے والے گروہ کی گرفتاری

چینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہانگ کانگ میں سرگرم اسمگلروں کے ایک منظم گروہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ گروہ ہیروں کی اسمگلنگ کے وسیع تر دھندے میں ملوث تھا۔

default

ہانگ کانگ میں گرفتار ہونے والے مبینہ اسمگلروں کے گروہ کے قبضے سے کروڑوں ڈالر مالیت کے ہیرے بھی حکام نے برآمد کرکے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ ہیروں کی اسمگلنگ میں ملوث یہ افراد ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ بتائے جاتے ہیں۔ اس نیٹ ورک میں شامل جن افراد کو ایسے قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے ان کی تعداد اٹھائیس بتائی ہے۔ ان گرفتار شدگان میں تین مقامی باشندے ہیں اور بائیس کا تعلق بھارت سے ہے۔

چینی حکام کے مطابق ہیروں کی اسمگلنگ کے اس بڑے اور منظم گروپ کا پولیس کئی ماہ سے تعاقب کر رہی تھی۔ اس دوران رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران پولیس مسلسل الرٹ رہی اور کئی مقامات پر چھاپے بھی مارے گئے۔ جنوری سے مارچ کے دوران مختلف پولیس چھاپوں کے دوران کل 31 ملین ڈالر کے ہیرے برآمد کیے گئے۔ گرفتارشدگان کے بارے میں کسٹم اور پولیس حکام نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

Greenpeace erinnert in Hongkong an Klimawandel

ہانگ کانگ شہر کا منظر

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ہیروں کے اسمگلنگ کے اس سنڈیکیٹ کے بارے میں پولیس کو سب سے پہلے پتہ اس وقت چلا جب ہانگ کانگ کے ایک مقامی شخص نے پولیس کو شکایت کی تھی کہ اس کو چند افراد نے لوٹ لیا ہے۔ شکایت کنندہ کے مطابق لٹیر ے اس کےتین ملین کے ہیرے چھین کر فرار ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ سن 2009 میں ہانگ کانگ سے ملحقہ چینی شہر شین ژین میں رونما ہوا تھا۔ اس شکایت کے بعد پولیس کی باقاعدہ کارروائی کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

پولیس حکام کا خیال ہے کہ اسمگل شدہ ہیرے بھارت سے باہر لا کر ہانگ کانگ کی زیورات بنانے والی فیکٹریوں کو فروخت کیے جاتے تھے۔ بعد میں یہ زیورات قانونی انداز میں اندرون اور بیرون چین منڈیوں میں بھیج دیے جاتے ہیں۔

ابھی تک تمام گرفتار شدہ افراد نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے خود کو بےگناہ قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تفتیشی عمل جاری ہے اور تمام مشتبہ اسمگلروں کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM