1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہانگ کانگ میں جوئے کے عادی کم عمر بچے اور نوجوان

ایک تازہ سروے کے مطابق ہانگ کانگ میں مرکزی سماجی دھارے سے دور خاندانوں کے کئی بچے کم عمری یا نوجوانی کے باوجود نشے کی حد تک جوئے کے عادی ہو چکے ہیں۔

default

سابقہ برطانوی نوآبادی ہانگ کانگ میں مختلف سماجی طبقات میں واضح تفریق پائی جاتی ہے

یہ سماجی سروے ہانگ کانگ کی چائنہ یونیورسٹی نے کرایا اور پتہ یہ چلا کہ معاشرتی زندگی کے مرکزی دھارے سے دور خاندانوں کے ہر پانچ میں سے ایک لڑکے یا لڑکی کو نہ صرف جوئے کی عادت ہے بلکہ ان کے لئے اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔

اس مطالعے میں سال رواں کے دوران جنوری اور فروری کے مہینوں میں ہانگ کانگ کے گیارہ سے لے کر چوبیس سال تک کی عمر کے قریب پانچ ہزار پانچ سو نوجوانوں کے رویئے کا تجزیاتی مطالعہ کیا گیا۔

نتیجہ یہ اعدادوشمار تھے کہ ان کم عمر اور نوجوان افراد میں سے صرف اٹھائیس فیصد کے سماجی رویئے معمول کے مطابق تھے۔ ان میں سے بائیس فیصد نوجوان ایسے تھے جنہیں نفسیاتی بیماری کی حد تک جوئے کی عادت کا سامنا تھا۔

ماہرین کو اس بات پر بھی بڑی حیرانی ہوئی کہ ان نابالغ بچوں اور نوجوانوں میں سے، جنہیں marginal youth کا نام دے کر ان سے متعلق سماجی تحقیق کی گئی، پچانوے فیصد کئی مرتبہ نقد رقوم کے ساتھ باقاعدہ قمار بازی کر چکے تھے۔

ہانگ کانگ کی چائنہ یونیورسٹی کے اس مطالعے کے نتائج کے مطابق وہا‌ں بہت سے نوجوان معاشرتی حوالے سے محرومیوں اور ناکامیوں کا شکار ہیں۔ ان میں سے بہت سے زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، اپنے ارد گرد کے معاشرے سے کٹ جاتے ہیں اور کئی طرح کے خطرناک مسائل کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

اس حوالے سے پریشانی کی بات یہ ہے کہ جوئے کے عادی ہانگ کانگ کے ایسے اکثر بچے جو رقوم جوئے میں ہار چکے تھے، ان کی مالیت ستر ہزار ہانگ کانگ ڈالر یا نو ہزار امریکی ڈالر تک بنتی تھی۔ ان میں سے ایک نوجوان تو ایسا بھی تھا جو جوئے کی اپنی اسی عادت کی وجہ سے ذاتی طور پر ایک ملین ڈالر سے زائد کا مقروض ہو چکا تھا اور اس کے والدین کو اس کا علم ہی نہیں تھا کہ وہ جوئے میں لاکھوں ڈالر ہار چکا ہے۔

ہانگ کانگ میں عوامی مقامات پر قمار بازی قانونی طور پرجرم ہے اور وہاں جوئے کے طور پر اکثر شرطیں گھڑ دوڑ کے مقامی Jockey Club میں لگائی جاتی ہیں۔

رپورٹ: سائرہ حسن شیخ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM