1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہانگ کانگ: امیر اور غریب کے درمیان خلیج وسیع تر

ہانگ کانگ میں امیر اور غریب شہریوں کے درمیان خلیج مزید وسیع ہو گئی ہے۔ یوں اس شہر کی ایک عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر شہرت کے باوجود وہاں دولت کی غیر مساوی تقسیم کا مسئلہ اور شدید ہو گیا ہے۔

default

بدھ کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس شہر میں سب سے زیادہ آمدنی والے خاندانوں کے پاس سب سے کم آمدنی والے خاندانوں کے مقابلے میں قریب 26 گنا زیادہ رقوم ہوتی ہیں۔

ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ نامی اخبار اور دیگر جریدوں میں شائع ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہانگ کانگ میں سب سے زیادہ ماہانہ آمدنی والے خاندانوں کی شرح کل آبادی کا 10 فیصد بنتی ہے۔ ان امیر خاندانوں کو سن 2010 میں ہر مہینے اوسطاﹰ 77 ہزار ہانگ کانگ ڈالر یا تقریباﹰ 10 ہزار امریکی ڈالر کے برابر آمدنی ہوئی۔ یہ شرح انہی امیر خاندانوں کی سن 2006 میں ماہانہ اوسط آمدنی کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ تھی۔

تاہم ہانگ کانگ شہر کے سب سے کم آمدنی والے مقابلتاﹰ غریب خاندانوں کو سن 2010 کے دوران ہر ماہ صرف 3000 ہانگ کانگ ڈالر کی آمدنی ہوئی، جو اس سے ایک سال پہلے کے مقابلے میں تین فیصد کم تھی۔

Flash-Galerie Jasmin Kundgebung in China

ہانگ کانگ کے مردم شماری اور شماریات کے محکمے کے مطابق اس شہر کے درمیانی آمدنی والے افراد کی حالت غریب شہریوں کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہے۔ سن 2010 میں ایسے خاندانوں کو ہر ماہ دستیاب ہونے والی رقوم 3.3 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباﹰ 16 ہزار ہانگ کانگ ڈالر تک پہنچ گئیں۔

ان تازہ اعداد و شمار سے یہ بات ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے کہ چین کے اس شہر کو ابھی بھی یہ اعزاز حا صل ہے کہ وہاں پر عام شہریوں کی اوسط ماہانہ آمدنی میں پایا جانے والا فرق دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ ہانگ کانگ میں دنیا کے چند امیر ترین افراد بھی رہتے ہیں۔ اس شہر کے تین ارب پتی باشندوں کے نام تو دنیا کے 30 امیر ترین افراد کی سال 2011 کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ہانگ کانگ میں دولت کی غیر مساوی تقسیم اور امیر اور غریب شہریوں کے درمیان پایا جانے والا فرق گزشتہ چند برسوں سے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس وجہ سے ہانگ کانگ کی مقامی پارلیمان کے ارکان کی طرف سے وہاں کی حکومت پر شدید تنقید بھی کی جاتی ہے، جو ابھی تک عام شہریوں کی سطح پر مالی وسائل کی اس غیر منصفانہ تقسیم کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس