1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہالینڈ کی ملکہ کے خلاف بھارت میں دائر مقدمہ برخاست

بھارت کی ایک عدالت نے ہالینڈ کی ملکہ کے خلاف قریب بیس برس قبل دائر کیا گیا وہ مقدمہ ختم کر دیا ہے، جس میں ایک بحری جہاز ڈوبنے پر ملکہ سے ازالہ طلب گیا تھا۔

default

ہالینڈ کی ملکہ Beatrix

منگل کو خبررساں ادارے AFP نے ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی کی ایک عدالت نے بیس جنوری کو یہ کیس برخاست کر دیا تھا۔ جہاز راں کمپنی کے مالک ایس کے ڈھونڈی نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں یہ کیس سن 1989ء میں اس وقت دائر کیا تھا جبMV SKD-1 نامی ایک جہاز منگلور کی بندرگاہ میں ڈوب کر تباہ ہو گیا تھا۔

ہالینڈ کی حکومت اور ملکہ کے خلاف دائر کیے گئے اس کیس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ڈچ کمپنی نے تباہ ہونے والے جہاز کی مرمت ٹھیک نہیں کی تھی،’ مرمت کا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ جہاز غرق ہوا۔ چونکہ اس جہاز کی مرمت کا کام ڈچ کمپنی نے کیا تھا اس لیے وہاں کی ملکہ اس نقصان کے ازالے کے لیے جواب دہ ہونی چاہیے۔‘

Ausländische Würdenträger vor dem Kongress

ڈچ ملکہ نےسن 2004ء میں اس کیس کو ختم کرنے کے لیے ایک درخواست دائر کی تھی

تباہ ہونے والا بحری جہاز بھارت کی ایک سرکاری جہاز راں کمپنی کے تحت کام کر رہا تھا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس مقدمے کو اس لیے برخاست کر دیا گیا ہے کیونکہ ملکہ کے پاس سفارتی استثنٰٰی کا حق ہے۔

ڈچ ملکہ نےسن 2004ء میں اس کیس کو ختم کرنے کے لیے ایک درخواست دائر کی تھی۔ ان کی وکیل نیتا راجدا کا کہنا ہے کہ ان کی موکلہ کے خلاف دائر کیا مقدمہ دراصل کافی دیر سے دائر کیا گیا تھا،’ یہ مقدمہ حادثے کے پانچ برس بعد دائر کیا گیا تھا۔‘

ایس کے ڈھونڈی کی وفات کےبعد ان کا بیٹا اس مقدمے کی پیروی کر رہا تھا۔ بھارت میں سول مقدمات میں تاخیر معمول کی بات تصور کی جاتی ہے۔ ججوں کی تعداد کم اور تصفیے کا کلچر نہ ہونے کے علاوہ مقدمات کی سنوائی میں پیچیدہ عوامل کی وجہ سے وہاں مقدمات کئی سالوں تک چلتے رہتے ہیں۔ گزشتہ سال ہی ہائی کورٹ کے ایک جج نے کہا تھا کہ بھارت میں دائر کیے گئے 31.3 ملین مقدمات کو نمٹانے کے لیے تین سو بیس برس درکا ہوں گے۔ ان کے مطابق تاہم اس دوران نئے مقدمات کا اندراج نہیں ہونا چاہیے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: کشور مصفطیٰ

DW.COM