1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہالینڈ نے یورپی یونین کی ششماہی صدارت سنبھال لی

نئے سال کے آغاز پر یکم جنوری سے یورپی یونین کی صدارت چھ ماہ کے لیے ہالینڈ نے سنبھال لی ہے۔ دی ہیگ حکومت کو اس عرصے کے دوران مہاجرین کے بحران سمیت ان مختلف مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دینا ہو گی، جن کا یونین کو سامنا ہے۔

Mark Rutte Jean-Claude Juncker Niederlande EU Ratspräsidentschaft

یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود یُنکر، دائیں، ڈچ وزیر اعظم مارک رُٹے کے ساتھ

عالمی سطح پر یونین کو درپیش سب سے نمایاں مسئلہ مہاجرین اور تارکین وطن کا وہ بحران ہے، جس نے اس بلاک کے لیے ہنگامی حالات پیدا کر دیے ہیں۔ گزشتہ برس پناہ کے لیے صرف جرمنی پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد ایک ملین سے زائد رہی۔ اسی طرح بحیرہ روم کو غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے پار کر کے یورپ پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد بھی ایک ملین سے زائد رہی تھی۔

اٹھائیس رکنی یونین کو مہاجرین کے علاوہ بھی کئی مسائل کا سامنا ہے۔ آج جمعہ یکم جنوری کو برسلز سے ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یونین کو اپنے ان مسائل پر مل کر ہی قابو پانا ہو گا اور اس کے لیے جون کے آخر تک یونین کے صدر ملک کے طور پر ہالینڈ کا کردار بھی انتہائی اہم ہو گا۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ موجودہ حالات میں ہالینڈ کا یونین کی صدارت سنبھالنا اس لیے بھی خوش آئند ہے کہ بحران پر قابو پانے کی کوششوں کے لیے صدر ملک کی حیثیت سے ہالینڈ یہ فرائض پہلی مرتبہ انجام نہیں دے رہا۔ مغربی یورپ میں جرمنی کا ہمسایہ یہ ملک مجموعی طور پر چھ چھ ماہ کے عرصے لیے آج تک گیارہ مرتبہ یونین کی قیادت کر چکا ہے۔

جرمن نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ یورپی یونین کو اس کے کئی رکن ملکوں میں دہشت گردی کی وجہ سے عسکریت پسندوں کے خونریز حملوں کی روک تھام اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کی اضافی ضرورت بھی بہت مصروف رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ یوکرائن کا مسلح تنازعہ بھی برسلز کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے، یورو زون کا بحران بھی ابھی ختم نہیں ہوا اور پھر برطانیہ کا یونین میں جامع اصلاحات کا مطالبہ بھی اپنی جگہ ہے، جس کی وجہ سے یہ بات غیر یقینی ہے کہ لندن آئندہ برسوں میں یونین میں شامل رہے گا یا نہیں۔

ان حالات میں ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک رُٹے نے، جو ایک لبرل سیاستدان ہیں، تسلیم کیا ہے کہ یورپی یونین کو اس وقت کڑے امتحان کا سامنا ہے اور ہالینڈ پر بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ یونین کو ہر حال میں داخلی تقسیم سے بچنا ہو گا۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران عہدیدار فیدیریکا موگیرینی نے بھی کہا ہے کہ ہالینڈ کے لیے یونین کے صدر ملک کے طور پر یہ ششماہی کافی مشکل ہو گی۔

یورپی یونین کا کوئی بھی رکن ملک صدر کے فرائض صرف چھ ماہ تک انجام دیتا ہے اور یوں یہ ذمے داریاں بدلتی رہتی ہیں۔ گزشتہ برس کی دوسری ششماہی میں یہ صدارت لکسمبرگ کے پاس تھی، جس کے بعد وہ اب ہالینڈ کو منتقل ہو گئی ہے۔ اسی طرح اس سال یکم جولائی کے روز ہالینڈ کے بعد اس بلاک کی صدارت سلوواکیہ کے پاس چلی جائے گی۔