1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہالینڈ نے ایران سے سفارتی رابطے منقطع کر دیے

ہالینڈ نے ایک ایرانی نژاد ڈچ خاتون کو پھانسی دیے جانے کے خلاف ایران سے سفارتی روابط منقطع کر دیے ہیں۔ اس خاتون کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔

default

زہرہ بہرامی نامی اس خاتون کو ابتدا میں حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کے الزام پر حراست میں لیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے AFP کے مطابق اس خاتون کی پھانسی کے ساتھ ہی گزشتہ ایک ماہ میں وہاں پھانسی دے کر ہلاک کیے جانے والے افراد کی مجموعی تعداد 66 ہوگئی ہے۔

ڈچ وزیر خارجہ Uri Rosenthal نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہیں اس خبر سے دھچکا پہنچا ہے۔’’ہالینڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران سے تمام تر تعلقات منقطع کر دیے جائیں۔ ان میں تمام تر سفارتی اور سرکاری خدمات کے رابطے شامل ہیں۔‘‘

Sahra Bahrami hingerichtet

زہرہ بہرامی کو 2009ء میں گرفتار کیا گیا تھا

وزیرخارجہ کے مطابق یہ فیصلہ ایرانی سفیرکاظم غریب عابدی سے اس خبر کی تصدیق کے بعد کیا گیا۔ تہران کے دفتر استغاثہ نے بھی زہرہ بہرامی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا : ’’منشیات کی سمگلر، زہرہ بہرامی دختر علی کو، منشیات رکھنے کا الزام ثابت ہو جانے کے بعد ہفتے کی صبح پھانسی دے دی گئی۔‘‘

ہالینڈ کی جانب سے اس اعلان کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ زہرہ بہرامی نے اپنے ڈچ روابط کو استعمال کرتے ہوئے منشیات ایران پہنچائیں۔’’ملزمہ کا تعلق منشیات کے ایک بین الاقوامی گروہ سے تھا، جس نے اپنی ڈچ روابط کا استعمال کرتے ہوئے دومرتبہ کوکائین ایران منتقل اور تقسیم کی۔‘‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ زہرہ بہرامی کے گھر کی تلاشی کے دوران 450 گرام کوکائین اور 420 گرام اوپیم برآمد کی گئی تھی۔

دوسری جانب ڈچ وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز ایرانی سفیر نے وزارت خارجہ کے دیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ابھی اس سلسلے میں تمام تر قانونی تقاضے پورے نہیں ہوئے، اس لئے زہرہ بہرامی کی پھانسی کی خبر ایک دھچکے سے کم نہیں۔

ہالینڈ کی جانب سے زہرہ بہرامی کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ بہرامی کے اہل خانہ سے ہمدری کی غرض سے ابھی ڈچ سفیر کو ایران سے واپس نہیں بلایا جا رہا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس