1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہالینڈ: مشتبہ دہشت گرد اسلحے سمیت گرفتار

ہالینڈ میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملکی پولیس نے  ایک ڈچ باشندے کو اسلحے سمیت حراست میں لے لیا ہے۔ شبہ ہے کہ یہ شخص کسی دہشت گردانہ کارروائی کی تیاری میں مصروف تھا۔

Niederlande Polizei (Robin van Lonkhuijsen/AFP/Getty Images)

پولیس کے مطابق اس شخص کے اپارٹمنٹ کی تلاشی کے دوران طاقتور ممنوعہ بارودی مواد کے چار ڈبے بھی برآمد ہوئے

ہالینڈ کی پولیس نے ملکی خفیہ ادارے کی اطلاع پر ایک ایسے تیس سالہ مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے، جس کے پاس بھری ہوئی خودکار رائفل  تھی۔ یہ شخص ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں آج جمعہ، مورخہ نو نومبر کی سہ پہر میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق اُس کے اپارٹمنٹ کی تلاشی کے دوران طاقتور ممنوعہ بارودی مواد کے چار ڈبے بھی برآمد ہوئے۔ اس شخص کے سامان میں سے کئی قسم کے موبائل فونز اور شام اور عراق میں متحرک دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے جھنڈے سے ملتاجلتا خاکہ بھی پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

 ڈچ دفتر استغاثہ کے مطابق یہ مشتبہ دہشت گرد دہشت گردی کی واردات کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔  دفترِ استغاثہ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ گرفتار شدہ شخص پر کسی دہشت گردانہ کارروائی کی تیاری میں ملوث ہونے کا شبہ ہے تاہم ابھی اس حوالے سے مخصوص تفصیلات موصول نہیں ہوئی ہیں۔‘‘

 مشتبہ شخص کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے اور دو ہفتوں بعد اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔خیال رہے کہ روٹر ڈیم یورپ کی مصروف ترین بندر گاہوں میں سے ایک ہے اور ہالینڈ میں مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افراد یہاں رہائش پذیر ہیں۔

 اس سے قبل گزشتہ ماہ کی چودہ تاریخ کو ہالینڈ میں ’انسدادِ دہشت گردی کے ادارے نے  دہشت گردی کے تازہ ترین جائزے میں حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ’خلافت‘ کی دعوے دار جہادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ شکست سے ہمکنار ہوتی ہے  یا  ختم ہو جاتی ہے تو ہالینڈ لوٹنے والے جہادیوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

اطلاعات کے مطابق 270 کے قریب ڈچ جہادی ہالینڈ سے شام اور عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے گئے تھے جن میں سے چالیس سابق جنگجوؤں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ جنگ میں حصہ لینے کے بعد ہالینڈ واپس آچکے ہیں۔ اِن میں سے زیادہ تر عسکریت پسند شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بر سرِ پیکار رہے تھے۔

 ہالینڈ کی انسدادِ دہشت گردی کے ادارے کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نو برس سے زائد عمر کے بچوں اور خواتین سمیت شام اور عراق میں اب بھی 190 ڈچ شہری موجود ہیں۔ جبکہ 44  ولندیزی جنگجو جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔