1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ہارٹ اٹیک:حرکت قلب میں بہتری کے لیے جھٹکے پُر خطر بھی

تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہارٹ اٹیک کے دوران یا فوری بعد ایمرجنسی علاج کے طور پر ڈاکٹروں کے بعض طریقے مریض کے لیے جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں۔ان میں خاص طور پر CPR بھی شامل ہے۔

default

اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہسپتال یا کسی ایمرجنسی میں ہارٹ اٹیک کے مریض کا سینہ نرسنگ اسٹاف، ڈاکٹر کی موجودگی میں زور زور سے دباتے ہیں۔ اس دوران سانس کی نالی میں خالص آکسیجن کی سپلائی بھی جاری رکھی جاتی ہے۔ اس طریقے سے زندگی کی بازی ہارتے ہوئے مریض اکثر واپس زندگی کی جانب لوٹتے دیکھے جاتے ہیں۔ اس طریقے کو سائنسی زبان میں cardiopulmonary resuscitation یا مختصراً سی پی آر (CPR) کہا جاتا ہے۔

کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا کی یونیورسٹی کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ماہر محقق ڈاکٹر ایان سٹیل کا کہنا ہے کہ زندگی بچانے کے لیے CPR طریقہ کار کے دوران  کئی مریض سنبھلنے کے بجائے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ڈاکٹر سٹیل کا مؤقف ہے کہ CPR اگر ضروری ہو تو اس کا دورانیہ مختصر ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ دیر تک انسانی سینے کو زور سے دبانے سے مریض کے اندر سنبھلنے کی قوت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر سٹیل کے مطابق ہارٹ اریسٹ یا ہاٹ اٹیک کی گرفت میں آئے مریض کو اس انداز میں جو جھٹکے دیے جاتے ہیں، انہیں زیادہ دیر تک جاری رکھنا کسی طور حیات بخش نہیں ہو سکتا۔

Zwei als Notarzt und Rettungssanitaeter bekleidete Maenner posieren am Dienstag, 15. Nov. 2005, waehrend eines Fototermins zur Messe Medica 2005 in Duesseldorf an einem zum Notarzteinsatzfahrzeug umge

جرمن ایمرجنسی ڈاکٹر ٹیم

امریکہ اور کینیڈا میں نرسنگ اسٹاف ہنگامی امداد کے سلسلے میں عام طور پر ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو تیس سے 60 جھٹکے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ تازہ تحقیق اگر حتمی کامیابی سے ہمکنار ہو جاتی ہے تو پھر ہنگامی طبی امداد دینے والے نرسنگ اسٹاف کو پابند کردیا جائے گا کہ وہ ہارٹ اٹیک کے مریض پر CPR کا طریقہ مت استعمال کریں۔

اس مناسبت سے کئی برسوں سے جو پریکٹس جاری ہے اس کے مطابق ڈاکٹر خیال کرتے ہیں کہ CPR  کا طریقہ کم از کم تین منٹ تک استعمال کرنا ضروری ہے۔ لیکن اب تازہ اعداد وشمار سے طبی ریسرچرز نے معلوم کیا ہے کہ یہ عمل مریض کو کمزور بنا دینے کا باعث بنتا ہے اور یہ کمزوری کسی بھی حوالے سے انسانی حیات کے لیے مناسب نہیں ہو سکتی۔ اس ریسرچ کے لیے دس ہزار مریضوں سے بنیادی معلومات حاصل کی گئی تھیں۔ اس تحقیق کی تفصیلات ابھی حال ہی میں امریکہ کے مشہور طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع کی گئیں۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  مقبول ملک

 

DW.COM