1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عہد

اسلام آباد میں افغانستان سے متعلق کانفرنس ’ہارٹ آف ایشیا، استنبول پراسس‘ کا دو روزہ وزارتی اجلاس رکن ممالک کے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور افغانستان میں قیام امن کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم کے ساتھ ختم ہوا۔

پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے اس بین الاقوامی اجلاس کے اختتام پر بدھ کو آٹھ صفحات اور 43 نکات پر مشتمل ایک اعلان اسلام آباد میں جاری کیا گیا۔ اعلانِ اسلام آباد تین حصوں پر مشتمل ہے جو رکن ممالک میں دہشت گردی کے خطرات کے انسداد، اقتصادی روابط کے فروغ اور اعتماد سازی کے اقدامات پر شامل ہے۔

اس اعلان میں رکن ممالک نے داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں اور ان کو کسی بھی قسم کی معاونت فراہم کرنے والوں کے خاتمے لیے مخصوص اقدامات کرنے کا عزم کیا۔ رکن ممالک نے افغان طالبان کے تمام دھڑوں اور دیگرحکومت مخالف مسلح گروپوں پر زور دیا کہ وہ کابل حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور ہتھیاروں کے نیٹ ورکس سنجیدہ علاقائی چیلنجز ہیں اور ان سے نمٹنے کی کوششیں علاقائی تعاون کے لیے اہم موقع مہیا کرتی ہیں۔

اس اعلامیے میں مزید کہاگیا ہے، ’’ہمیں معلوم ہے کہ دہشت گردی کے لیے مہیا کی جانے والی رقوم کا ایک قابل ذکر حصہ منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم ان تمام خطرات کی نشاندہی اور ان کے انسداد کے لیے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مل کر عمل شروع کرنے کا عہد کرتے ہیں اور اس کے لیے خطے میں جاری انسداد منشیات کی سر گرمیوں میں تیزی لائے جائے گی۔‘‘

اعلان اسلام آباد کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کے چیلنجز کسی خاص ملک تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اس تناظر میں ’ہارٹ آف ایشیا، استنبول پراسس‘ کے رکن ممالک کو سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے لیے مربوط اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ’ہارٹ آف ایشیا، استنبول پراسس‘ کے رکن ملکوں کے اعلیٰ اہلکار آئندہ برس کے وسط میں سلامتی کے امور اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات کے لیے ایک مشترکہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔

اعلامیے کے مطابق بھارت آئندہ سال یعنی دو ہزار سولہ کے اواخر میں ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

سہ اور چہار فریقی ملاقاتیں

Pakistan Konferenz Heart of Asia in Islamabad

سرتاج عزیز، دائیں، افغان نائب وزیر خارجہ خلیل حکمت کرزئی، درمیان میں، کے ساتھ

’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس کے موقع پر بدھ کو اسلام آباد میں پاکستان، افغانستان اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی سہ فریقی ملاقات بھی ہوئی۔

مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر اعظم نواز شریف نے کی جبکہ افغان وفد کی سربراہی صدر اشرف غنی نے کی۔ امریکی نائب وزیر خارجہ اینتھونی بلنکن بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ اس ملاقات میں شریک تھے۔

اس ملاقات میں خطے کی صورتحال اور افغانستان میں امن کی کوششوں اور پاک افغان تعلقات میں اعتماد سازی کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

بعد ازاں افغانستان، پاکستان اور امریکی عہدیداروں کی اس ملاقات میں چینی وزیر خارجہ وانگ ژی بھی شریک ہو گئے۔ اس ملاقات کو جولائی میں طالبان رہنما ملا عمر کی موت کی تصدیق کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان تعطل کا شکار ہونے والے مذاکرات کی بحالی کے لیے اہم سمجھا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ انتیس جون کو پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات میں پاکستان کے علاوہ امریکا اور چین کے مبصرین بھی شامل ہوئے تھے۔

سرتاج عزیز اور ربانی کی مشترکہ پریس کانفرنس

افغانستان سے متعلق پاکستان میں منعقدہ ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس کے اختتام پر پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر افغان وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ پاکستان افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس خطے کے تمام ممالک خاص طور پر حلیف ملکوں امریکا، چین اور یقیناً پاکستان نے افغانستان میں امن و سلامتی کے لیے کابل کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ انہیں بہت امید ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن و مصالحت کے عمل میں با اثر اور اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستانی مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں شریک تمام ممالک نے افغانوں کی سربراہی میں امن کے لیے مفاہمت کے عمل کی بحالی کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور خاص طور پر خطے میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی بات چیت کی گئی۔

DW.COM