’ہارٹ آف ایشیا‘، اہم علاقائی کانفرنس | حالات حاضرہ | DW | 09.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ہارٹ آف ایشیا‘، اہم علاقائی کانفرنس

پاکستان اور افغانستان کے رہنماؤں نے باہمی تعلقات میں بہتری کا عہد کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں میں تیزی لانے پر زور دیا ہے۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ’ہارٹ آف ایشیا‘ نامی میٹنگ میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی کے علاوہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور نائب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن بھی شریک ہو رہے ہیں۔ بدھ کے دن اس میٹنگ کا افتتاح کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ اسلام آباد حکومت افغانستان میں قیام امن کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ ہے اور عالمی برادری کو بھی اس شورش زدہ ملک میں قیام امن کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مستحکم افغانستان علاقائی سلامتی کی ضمانت ہے اور امن ترقی کے لیے جبکہ ترقی امن کے لیے ناگزیر ہے۔ نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ دشمن ہے اور اس کے خاتمے کے لیے رابطوں میں مزید بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر اشرف غنی نے کہا کہ دہشت گردی عالمی سطح پر ایک خطرہ بن چکی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ان کی حکومت عالمی برداری کے ساتھ مل کر تمام اقدامات کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’دشمنوں‘ نے افغانستان کو تقسیم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ اپنے ان تخریبی عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں تشدد کے لیے علاقائی اور عالمی دہشت گرد گروہوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے پاکستانی قبائلی علاقوں میں شروع کیے جانے والے فوجی آپریشن کے نتیجے میں شدت پسند افغانستان میں داخل ہو چکے ہیں۔

Indien Sushma Swaraj

سشما سوراج کے مطابق اس میٹنگ سے اعتماد سازی میں اضافہ ہو گا

ہارٹ آف ایشیا میٹنگ میں شرکت کے لیے پاکستان کو دورہ کر رہی بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو ہی افغانستان میں قیام امن کے لیے سنجیدگی ظاہر کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس کانفرنس کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

سن 2012ء کے بعد پہلی مرتبہ کوئی بھارتی وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ سوراج کے اس دورے کو پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات میں بھی بہتری کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ سوراج نے بھی کہا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کو علاقائی تجارت اور تعاون میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔