1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہاتھیوں کی تعداد جاننے کے لیے، سری لنکا میں سروے

سری لنکا میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ہاتھیوں کے پہلے قومی سروے کے موقع پر اس کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

default

یہ دھمکی انہوں نے ایک وزیر کےاس بیان کے بعد دی ہے، جس میں پالتو ہاتھیوں کو مندروں میں استعمال کیے جانےکا کہا گیا تھا۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک درجن سے زائد غیر سرکاری تنظمیوں نے اپنے رضا کاروں کو منگل کے روز اس سروے میں حصہ لینے سے روک دیا، جس کا مقصد مختلف نیشنل پارکس سمیت جنگ زدہ جزیرے میں ہاتھیوں کے بارے میں اعداد و شمار اکھٹے کرنا ہے۔

قبل ازیں پیر کے روز جنگلی حیات کے وزیر ایس ایم چندرسینا کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حاصل شدہ اعداد و شمار کے بعد مناسب ہاتھیوں کو تربیت دیتے ہوئے بدھ مت مندروں کی تقریبات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Elefanten Schönheitswettbewerb Chitwant Indien Flash-Galerie

سری لنکا میں 150 کے قریب تربیت یافتہ ہاتھی ہیں

چندر سینا نے کولمبو کے ڈیلی مرر اخبار کو بتایا، ’’ہاتھیوں کی گنتی کے دوران کم عمر ہاتھیوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ مناسب تربیت دینے کے بعد انہیں مندروں کے حوالے کر دیا جائے گا۔‘‘

اخبار کے مطابق کچھ عرصہ پہلے تک ملک میں تین سو سے زائد تربیت یافتہ ہاتھی تھے لیکن اب ان کی تعداد کم ہو کر 150کے قریب رہ گئی ہے۔ ان ہاتھیوں کو بھی مندروں میں ہونے والی تقریبات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

تحفظ ماحول کے لیے کام کرنے والے رکشن جے وردھنے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جنگلات میں پائے جانے والے ہاتھیوں کو پکڑنا قدرتی عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔

سری لنکا کے محکمہ جنگلی حیات کے ڈائریکٹر جنرل ’ایچ ڈی رتنا یاکے‘ کا وزیر کے بیان سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’یہ سروے ہاتھیوں کو قید یا ان پر قبضےکے لیے نہیں بلکہ اس کا مقصد ہاتھیوں کی تعداد معلوم کرنے کے بعد ان کے تحفظ کے لیے کام کرنا ہے۔‘‘

انہوں نےمزید بتایا کہ چار ہزار رضاکاروں سے توقع تھی کہ وہ ہاتھیوں کی پانی پینے والی جگہوں پر جا کر ان کی تعداد کا اندازہ لگائیں گے۔ اس منصوبے پر دو لاکھ دس ہزار ڈالر کی لاگت آے گی۔ پہلی مرتبہ اس سروے میں سری لنکا کے شمالی اور مشرقی قومی پارک بھی شامل ہوں گے، جو پہلے خانہ جنگی کے باعث شامل نہیں تھے۔

رپورٹ: سائرہ ذوالفقار

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM