1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

ہاتھوں کی انگلیوں اور مردانہ کشش سے متعلق نئی تحقیق

ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کسی مرد کے ہاتھ کی شہادت کی انگلی کے مقابلے میں اس کی ‘رِنگ فنگر’ کہلانے والی چوتھی انگلی جتنی لمبی ہو گی، اتنا ہی یہ امکان بھی زیادہ ہو گا کہ خواتین ایسے کسی مرد کو پر کشش سمجھیں۔

default

اس نئے طبی مطالعے کے نتائج برطانیہ کی رائل سوسائٹی کے جرنل آف بائیولوجیکل سائنسز میں شائع ہوئے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران ماہرین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ پیدائش سے پہلے لڑکوں کی ماں کے پیٹ میں جسمانی نشو ونما پر ہارمونز کا اثر کیسا ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں نے اس پہلو پر بھی غور کیا کہ لڑکوں کی بعض جسمانی خصوصیات کس طرح تشکیل پاتی ہیں اور ان میں مخالف جنس کی کشش کس کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ماہرین نے اس ریسرچ کو ارتقائی نفسیات پر تحقیق کا نام دیا ہے، جس پر اب کئی حوالوں سے کافی زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔

Haiti, Präsident Jean-Bertrand Aristide

اس سے پہلے سائنسدان یہ نتیجہ کافی عرصہ پہلے ہی اخذ کر چکے تھے کہ کسی مرد کی دائیں ہاتھ کی دوسری اور چوتھی انگلیوں کی لمبائی کے تناسب کا اس بات سے گہرا تعلق ہوتا ہے کہ ایسا کوئی مرد اپنی پیدائش سے پہلے ماں کے پیٹ میں ہی کس حد تک testosterone نامی ہارمون کا شکار رہا تھا۔

اب نئی ریسرچ سے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کسی مرد کے دائیں ہاتھ کی انڈکس فنگر اور رنگ فنگر کی لمبائی میں فرق جتنا زیادہ ہوگا، اتنا ہی یہ امکان بھی زیادہ ہو گا کہ دوران حمل اس کی نشو ونما کو ہارمونز نے واضح طور پر متاثر کیا۔

اس تحقیق کے دوران اٹھارہ سے لے کر چونتیس برس تک کی عمر کی 80 خواتین کو مختلف مردوں کے ہاتھوں کی تصویریں دکھائی گئیں اور ان کی آوازیں بھی سنائی گئیں۔ پھر ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس طرح کے مردوں کو زیادہ پر کشش سمجھتی ہیں۔ ان خواتین کی کافی بڑی تعداد نے ایسے مردوں کے چہروں کو پر کشش قرار دیا، جن کے ہاتھوں کی چوتھی انگلی، پہلی انگلی سے قدرے لمبی تھی۔

جرنل آف بائیولوجیکل سائنسز میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کے مطابق مقصد یہ جاننا تھا کہ خواتین کسی مرد کو پر کشش قرار دیتے ہوئے نفسیاتی طور پر کن باتوں کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ اس ریسرچ سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ کسی مرد کے چہرے کے پرکشش قرار دیے جانے کا اس چہرے کی ساخت اور توازن سے بھی کافی تعلق ہوتا ہے۔

اس مطالعے سے جو ایک اور بات بھی ثابت ہو گئی وہ یہ تھی کہ اکثر خواتین نے ہر بار ایک ہی طرح کی شخصیت یا چہروں والے مردوں کو ہی مردانہ کشش کا حامل قرار نہیں دیا۔

رپورٹ:عصمت جبیں

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس