1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہائیڈروجن بم کا تجربہ کامیاب رہا، شمالی کوریا کا دعویٰ

شمالی کوریا کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس نے ہائیڈروجن بم کا ایک کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو شمالی کوریا کے لیے یہ ایک بڑی پیشرفت ہے اور جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ہمسایوں کے لیے خطرے کی علامت۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ٹیسٹ ملکی سربراہ کِم جونگ اُن کے حکم پر کیا گیا ہے۔ شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی KCNA کے مطابق، ’’پہلے ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ بدھ چھ جنوری کو دن 10:00 (عالمی وقت کے مطابق 01:30) بجے کیا گیا ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گزشتہ ماہ کِم جونگ اُن نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا ملک ہائیڈروجن بم تیار کر چکا ہے، جسے تھرمو نیوکلیئر ڈیوائس کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ یہ دراصل کم طاقت کے جوہری دھماکے کی مدد سے بڑا اور زیادہ تباہ کُن بم دھماکا کرنے کا مرحلہ ہے۔ تاہم امریکا اور دیگر آزاد ماہرین کی طرف سے شمالی کوریا کے اس دعوے پر خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

کیا یہ واقعی ہائیڈروجن بم کا دھماکا تھا؟

دوسری طرف جنوبی کوریا کے انٹیلجنس حکام اور دیگر مبصرین کی طرف سے ابھی تک اس پر خدشات کا اظہار ہی کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعی ہائیڈروجن بم کا دھماکا تھا۔ جنوبی کوریا کی پارلیمانی انٹیلیجنس کمیٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق شمالی کوریا کی طرف سے آج کیے جانے والے دھماکے کی طاقت قریب چھ کلو ٹن کے برابر تھی۔ یہ قریب اُتنی ہی طاقت ہے جو شمالی کوریا کی طرف سے قبل ازیں کیے جانے والے جوہری بم دھماکے کی تھی یعنی چھ سے سات کلوٹن ’ٹی این ٹی‘ کے دھماکے کے برابر۔

امریکی جیولوجیکل سروے کی طرف سے زلزلے کا مرکز شمالی کوریا کی جوہری ٹیسٹ سائٹ کے قریب بتایا گیا تھا

امریکی جیولوجیکل سروے کی طرف سے زلزلے کا مرکز شمالی کوریا کی جوہری ٹیسٹ سائٹ کے قریب بتایا گیا تھا

جنوبی کوریا کے ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورم کے سینیئر ریسرچ فیلو ژانگ اُک کے مطابق، ’’دھماکے کی طاقت دیکھتے ہوئے اس بات کا یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ ہائیڈروجن بم کا دھماکا تھا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ممکن ہے کہ انہوں نے ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کے درمیانی مرحلے کا کوئی تجربہ کیا ہو، لیکن جب تک کوئی واضح ثبوت نہیں ملتا، ان کے دعوے پر یقین کرنا مشکل ہے۔‘‘

دھماکے کے سبب زلزلہ

قبل ازیں امریکی جیولوجیکل سروے کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ علاقے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.1 تھی۔ اس زلزلے کا مرکز شمالی کوریا کی جوہری ٹیسٹ سائٹ کے قریب بتایا گیا تھا۔

جب شمالی کوریا نے 2013ء میں اپنے جوہری بم کا تجربہ کیا تھا تو اس وقت بھی 5.1 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

روئٹرز کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ کرنے کے دعوے کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے لیکن اگر شمالی کوریا نے یہ کامیابی حاصل کر لی ہے تو یہ چیز امریکا اور خطے میں موجود اُس کے اتحادیوں جنوبی کوریا اور جاپان کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن سکتی ہے۔ ہائیڈروجن بم کو میزائل کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچایا جا سکتا ہے اور شمالی کوریا کے پاس یہ ٹیکنالوجی پہلے سے ہی موجود ہے۔