1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گیلاد شالت کی رہائی کی ڈیل مکمل

انتہاپسند فلسطینی تنظیم حماس کے قبضے سے مغوی اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کی رہائی کی ڈیل کے بقیہ 550 قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہائی دے دی گئی ہے۔

default

گیلاد شالت کی رہائی کے بدلے میں اسرائیل کی حکومت نے کل 1027 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ ڈیل مصر کی ثالثی میں مکمل ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے کئی ماہ تک گفت و شنید کا سلسلہ جاری و ساری رہا۔

شالت کی رہائی کی ڈیل اسی برس اکتوبر میں طے پائی تھی۔ حماس کے قبضے میں پانچ سال سے زائد عرصے تک رہنے کے بعد گیلاد شالت کو اٹھارہ اکتوبر کو رہا کیا گیا تھا۔ ڈیل کے تحت شالت کی رہائی کے ساتھ 477 فلسطینی قیدیوں کو چھوڑا گیا تھا۔ اب اس ڈیل کے تحت بقیہ 550 فلسطینیوں کو بھی اسرائیلی جیلوں سے رہا کر دیا گیا ہے۔

اتوار کی رات کو رہائی پانے والے قیدی غزہ اور ویسٹ بینک پہنچ گئے ہیں۔ غزہ اور راملہ میں ان قیدیوں کا پرزور انداز میں استقبال کیا گیا۔ ان قیدیوں میں بیشتر کی سزائیں ختم ہونے والی تھی۔ جب کہ اٹھارہ اکتوبر کو کئی ایسے فلسطینی رہا کیے گئے تھے، جو دہشت گردانہ کارروایوں میں ملوث ہونے کے سبب طویل مدت کی سزائیں کاٹ رہے تھے۔ پانچ سو سے زائد قیدی مغربی کنارے پہنچے جب کہ صرف اکیالیس کو غزہ پہنچایا گیا۔

Gilad Schalit Freilassung Flash-Galerie

گیلاد شالت پانچ سال سے زائد عرصے تک حماس کے قبضے میں رہا

اسرائیل کے جیل کے ایک اہلکار کے مطابق رہائی پانے والوں میں سے دو افراد کو اردن کی سرحد تک پہنچایا گیا۔ اسی طرح دو فلسطینیوں کو رہائی کے بعد مشرقی یروشلم جانے کی اجازت دی گئی تا کہ وہ اپنے خاندانوں کے ساتھ مل سکیں۔ ایک فلسطینی نژاد فرانسیسی بھی تھا، جس کی سزا اگلے سال مارچ میں ختم ہونے والی تھی۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق رہائی پانے والوں میں پچپن کم سن قیدی تھے اور ان کی عمریں چودہ سے سترہ برسوں کے درمیان تھیں۔ ان قیدیوں کی رہائی کا یونیسیف نے خیر مقدم کیا ہے۔

غزہ میں حماس کے ترجمان فوزی برہوم کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت تمام قیدیوں کی رہائی کا خیر مقدم کرتی ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ اہم نہیں کہ رہائی پانے والے ان قیدیوں کا تعلق کس جماعت سے ہے بلکہ یہ تمام فلسطینی ہیں اور ان کی رہائی باعث مسرت ہے اور اس پر حماس کو فخر ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس