1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گیلاد شالت پانچ برسوں سے حماس کے قبضے میں

اسرائیلی وزیراعظم کےگھر کے قریب ایک خیمہ لگا ہوا ہے، جس پر ہر گزرتے دن کے ساتھ اعداد تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ خیمہ اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کے لیے لگایا گیا ہے، جسے گزشتہ پانچ برسوں سے حماس نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔

default

گیلاد شالت کے والد نوم شالت نے بتایا کہ آج 1825دن بیت گئے ہیں اور اسرائیلی حکومت ان کے بیٹے کو رہا کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ اس خیمے پر شالت کی رہائی کے حوالے سے نعرے درج ہیں۔ یاد رہے23 سالہ گیلاد شالت کو 25 جون 2006ء میں ایک جھڑپ کے دوران زخمی ہونے کے بعد عسکریت پسند اپنے قبضے میں لے کر غزہ پٹی میں روپوش ہو گئے تھے۔ حماس نے گیلاد شالت کی رہائی کے بدلے میں مختلف اسرائیلی جیلوں میں قید ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

گیلاد شالت کے والد نےکہا کہ جب تک ان میں ہمت اور طاقت ہے وہ یہاں بیٹھے رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم پر مسلسل دباؤ ڈالتے رہیں گے کہ ان کے بیٹے کی رہائی کے بدلے میں حماس کے مطالبات کو تسلیم کر لیا جائے۔

Noam Schalit Vater von Gilad Shalit gefangener israelischer Soldat

ایہود اولمرٹ کی ناکافی کوششوں کی وجہ سے میرا بیٹا حماس کے قبضے میں ہے، نوم شالت

اس وقت اسرائیلی جیلوں میں تقریباً ساڑھے پانچ ہزار فلسطینی قید ہیں۔ اسرائیل میں قید فلسطینیوں کو مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں فلسطین کی آزادی کے لیے چلنے والی تحریک کے ہیروز کا درجہ دیا جاتا ہے۔

اس بارے میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ مغوی اسرائیلی فوجی کی آزادی کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم انہوں نے حماس کی شرائط ماننے سے انکار کیا ہے۔ بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جن قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، ان میں خطرناک مجرم بھی شامل ہیں۔ ’’ اگرایسے مجرموں کو رہا کر دیا گیا تو یہ اسرائیل کی سالمیت کے لیے ایک خطرہ بن سکتے ہیں۔‘‘

گیلاد شالت کے پاس اسرائیلی اور فرانسیسی شہریت ہے۔ وہ اغواء کے وقت 19برس کے تھے۔ آخری مرتبہ ستمبر 2009ء میں ایک ویڈیو سامنے آئی تھی۔ اس ویڈیو پیغام میں گیلاد شالت بہت ہی کمزور اور لاغر دکھائی دے رہے تھے۔

ابھی تک شالت سے بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس کے کسی نمائندے کی بھی ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔ گیلاد شالت کے والد نوم شالت کے مطابق سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ کی ناکافی کوششوں کی وجہ سے پانچ سال گزر جانے کے باوجود بھی ان کا بیٹا حماس کے قبضے میں ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : شامل شمس

DW.COM