1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گیلات شالیت کی رہائی کی ڈیل اسرائیلی کابینہ میں منظور

اسرائیل اور حماس کے مابین قیدیوں کے تبادلے کا ایک معاہدہ ہو گیا ہے، جس کے تحت حماس جنگجو اپنے ایک ہزار ساتھیوں کی رہائی کے بدلے میں مقید اسرائیلی فوجی گیلات شالیت کو رہا کر دیں گے۔

default

گیلات شالیت کی ایک تصویر

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے نشریاتی خطاب میں کہا، 'گیلات آئندہ چند دنوں میں واپس اپنے گھر آ جائے گا'۔ منگل کی شب اسرائیلی وزیر اعظم نے کابینہ کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی تھی، جس میں اس ڈیل کو حتمی طور پر منظور کر لیا گیا۔

اسرائیلی حکومت گزشتہ پانچ برس سے کوشش میں تھی کہ کسی طرح گیلات شالیت کو آزاد کروا لیا جائے۔ تاہم اس سلسلے میں نہ تو کوئی فوجی آپریشن کامیاب ہوا اور نہ ہی مذاکرات کوئی راہ ہموار کر سکے۔ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی جنگجوؤں کے مابین اس نئی ڈیل میں جرمنی اور مصر کی نئی حکومت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے گیلات شالیت کی رہائی کے لیے کوششوں پر مصراور جرمنی کی ثالثی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ گزشتہ جمعرات کو حماس سے مذاکرات شروع ہوئے تھے، جنہیں آج حتمی شکل دے دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا، 'یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ میرا دل ان لوگوں کے ساتھ ہے، جو دہشت گردانہ کاروائیوں سے متاثر ہوئے ہیں'۔

NO FLASH Israel Hamas Gefangenenaustausch Gilad Schalit

گیلات شالیت کو جون 2006ء میں اغوا کیا گیا تھا

دوسری طرف دمشق میں حماس کے سپریم لیڈر خالد مشعل نے بھی اس ڈیل کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوجی کی رہائی کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں موجود قریب پانچ ہزار فلسطینی قیدیوں میں سے ایک ہزار27 رہا کر دیے جائیں گے۔ خالد نے مزید کہا کہ ان قیدیوں کی رہائی دو مرحلوں میں ہو گی،' پہلے مرحلے میں 450 قیدی رہا کیے جائیں گے اور پھر دو ماہ بعد باقی ماندہ آزاد کر دیے جائیں گے'۔ انہوں نے اس ڈیل کو فلسطینی عوام کی جیت قرار دیا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ آزاد کیے جانے والے فلسطینی قیدیوں میں ایسے کئی بڑے نام بھی شامل ہیں جو سنگین دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے جرم میں لمبی لمبی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔۔

غزہ میں موجود حماس جنگجوؤں نے جون 2006ء میں اسرائیل میں سرحد پار کارروائی کرتے ہوئے سارجنٹ گیلات شالیت کو اغوا کر لیا تھا۔ اسرائیلی دفاعی فوج نے اپنے فوجی کو آزاد کروانے کے لیے جوابی آپریشن کیا تھا تاہم وہ کامیاب نہیں ہو سکی، گیلات کو جب اغوا کیا گیا تھا تو اس کی عمر صرف 19 برس تھی۔ حماس جنگجوؤں نے گزشتہ پانچ برس کے دوران اسرائیلی حکومت کا سارجنٹ گیلات شالیت سے کوئی رابطہ نہیں ہونے دیا تاہم اس کے آڈیو پیغام، تحریریں اورتصویریں منظرعام پرلاتے رہے تھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس