1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ، درختوں کی شامت

پاکستان میں آجکل شہریوں کو گیس اور بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے،گیس اور بجلی کی طویل لوڈشیدنگ کی وجہ سے لکڑیاں جلا کر توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جا رہا ہے۔

default

گھروں میں ہی نہیں بلکہ بعض ہوٹلوں میں بھی لکڑیوں کو بطور ایندھن استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہاتھ تاپنے سے لیکر کھانا پکانے تک لکڑیاں استعمال ہو رہی ہیں۔ ٹالوں پر لکڑی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، اور منڈی میں بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے درختوں کی کٹائی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

پاکستان میں بہت سے لوگوں کو شاید یہ اندازہ ہی نہیں ہے کہ درختوں کے کاٹے جانے سے ماحول پر کتنے برے اثرات رونما ہو رہے ہیں، سندھ کے سیکٹری ماحولیات میر حسین علی کے مطابق درخت آکسیجن فراہم کرنے، ماحولیاتی کثافتوں کو ختم کرنے، سیلابوں کو روکنے کے علاوہ جنگلی حیات اور زرعی عمل کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بین ا لا قوامی معیار کے مطابق پاکستان میں 25 فی صد رقبے پر جنگلات ہونے چاہییں۔ پاکستانی حکومت کا دعوی ہے کہ ملک میں 4.5 فی صد رقبے پر جنگلات ہیں لیکن ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈائر یکٹر حماد نقی کہتے ہیں کہ ایف اے او کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جنگلات کا رقبہ 2.5 فی صد سے زیادہ نہیں ہے اور اس میں سے بھی سالانہ 2.1 ایک فی صد رقبہ جنگلوں سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔

Erdbebenopfer in Pakistan versuchen Kälte zu trotzen, Ausharren bei minus 30 Grad

گیس اور بجلی کی طویل لوڈشیدنگ کی وجہ سے لکڑیاں جلا کر توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جا رہا ہے۔

یہ صورت حال ملک میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہے، اس صورت حال میں ملک میں اور درخت لگانے کی بجائے ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کی جاری ہے۔ میر حسین علی کے مطابق بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کے محفوظ قرار دیے گئے جنگلات کی زمینیں بھی الاٹ کی جا چکی ہیں، جہاں کہیں جنگل ہوتے تھے اب وہاں ہاؤسنگ اسکیمیں اور دوسری تعمیرات بن چکی ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستا نی حکومت گیس اور بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع کو ترقی دینے میں ناکام رہی ہے، پاکستان میں سورج، ہوا اور گوبر سے انرجی پیدا کرنے کے منصوبوں کے ثمرات زیادہ تر سیاسی لوگوں کی تقریروں میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔

پنجاب کے محکمہ ماحولیات کے ترجمان سلیم ا لرحمٰن کے مطابق گیس اور بجلی کے بحران کی وجہ سے درخت کاٹنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ان کے مطابق جنگلات میں بھی حکومتی رٹ کمزور ہے اور لوگ درخت کاٹنے کے قوانین کا احترام نہیں کرتے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کے شجر کاری کی سرکاری مہمات کے دوران لاکھوں درخت لگانے کے ہر سال دعوے کیے جاتے ہیں ان کا بھی آڈٹ کرانے ضرورت ہے تاکہ پتہ چلایا جا سکے کے پچھلے ساٹھ سالوں میں لگائے جانے والے درخت کہاں ہیں؟

ایک شہری مسعود جاوید کے مطابق جس ملک میں حکومت کو ہر لمحہ اپنی بقا کی فکر درپیش ہو اس سے درختوں کے بچانے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ان کے خیال میں اس سلسلے میں عوام کی آگاہی کے لیے مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس