1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گیتا کا خاندان تو اس کا تھا ہی نہیں

پاکستان میں ایک عشرے سے زائد عرصہ قیام کے بعد واپس بھارت لوٹنے والی گونگی اور بہری ہندو لڑکی گیتا کو ابھی تک اس کے گھر والے نہیں ملے اور جو خاندان اس کا سمجھا جا رہا تھا، ڈی این اے ٹیسٹ کے مطابق وہ اس کا تھا ہی نہیں۔

جمعہ بیس نومبر کے روز بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ گیتا، جو بارہ سال قبل قریب گیارہ برس کی عمر میں اپنے گھر والوں سے بچھڑ کر غلطی سے پاکستان پہنچ گئی تھی، ابھی چند ہفتے قبل ہی واپس بھارت بھیج دی گئی تھی اور اس کی واپسی پر پاکستان اور بھارت دونوں ہمسایہ ملکوں میں سماجی اور سیاسی حلقوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا تھا۔

DW.COM

بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم گیتا کی پاکستان میں قیام کے دوران کئی سال تک دیکھ بھال معروف سماجی شخصیت عبدالستار ایدھی اور ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی نے کی تھی۔ پاکستانی اور بھارتی میڈیا میں تقریباﹰ یقین کے ساتھ کہا گیا تھا کہ بھارت واپسی پر حکام گیتا کی مدد کریں گے اور وہ اپنے اہل خانہ سے دوبارہ مل سکے گی۔

اب لیکن بھارتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس وقت تئیس سالہ گیتا کے اس کے ممکنہ خاندان کے ساتھ دوبارہ ملاپ سے پہلے طبی ماہرین نے جو ڈی این اے ٹیسٹ کیے، ان کے نتائج کے مطابق گیتا اس خاندان کی لڑکی نہیں ہے، جس کے بارے میں یقین کی حد تک شبہ تھا۔

گیتا کو اکتوبر کے مہینے میں پاکستان سے واپس نئی دہلی بھیجا گیا تھا اور اس واقعے کی پاکستانی اور بھارتی میڈیا نے بڑی بھرپور کوریج کی تھی۔ لیکن آئی اے این ایس نامی نیوز ایجنسی نے جمعرات انیس نومبر کو رات گئے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا، ’’مہاتو نام کے ایک بھارتی خاندان نے دعویٰ کیا تھا کہ گیتا اسی گھرانے کی فرد ہے اور گیتا کو بھی یہ یقین ہو گیا تھا کہ اس کے والدین کا تعلق اسی گھرانے سے ہے۔‘‘

تاہم وکاس سواروپ نے کہا، ’’مہاتو خاندان کے ارکان کے جو ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے، ان کے نتائج گزشتہ ہفتے ان کو فراہم کر دیے گئے۔ یہ ڈی این اے ٹیسٹ منفی رہا اور گیتا مہاتو خاندان کی لڑکی نہیں ہے۔‘‘

Indien Ankunft Geeta In Neu-Delhi

گیتا اس وقت بھارتی شہر اندور میں ایک سماجی رہائش گاہ میں مقیم ہے، جہاں وہ پیشہ ورانہ تربیت بھی حاصل کر رہی ہے

آئی اے این ایس نے لکھا ہے کہ چند دیگر بھارتی خاندانوں نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ گیتا ان کے گھرانے کی لڑکی ہے۔ خارجہ امور کی ملکی وزارت کے ترجمان کے بقول اب گیتا کو ان دوسرے خاندانوں کی تصویریں دکھائی جائیں گی تاکہ اگر ممکن ہو تو وہ پہچان سکے کہ آیا وہی اس کے بچھڑے ہوئے اہل خانہ ہیں۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ گیتا اس وقت بھارتی شہر اندور میں ایک سماجی رہائش گاہ میں مقیم ہے، جہاں وہ پیشہ ورانہ تربیت بھی حاصل کر رہی ہے۔