1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گیارہ قیدیوں کا اغواء: حکومت سے عدالتی جواب طلبی

سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے الزامات میں مختلف عدالتوں سے بری کئے جانے کے بعد مبینہ طور پر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اڈیالہ جیل سے اغواء کئے گئے گیارہ قیدیوں کی گمشدگی کے معاملہ میں حکومت کو دو دن کی مہلت دی ہے۔

default

ان گیارہ قیدیوں کے لواحقین نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم پر ان افراد کو 28 مئی کو اڈیالہ جیل راولپنڈی سے رہا کیا جانا تھا۔ تاہم درخواست گذاروں کے بقول 29 مئی کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد مبینہ طور پر جیل کے احاطے سے ان گیارہ قیدیوں کو گاڑیوں میں ڈال کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔

سپریم کورٹ نے اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے پہلے ہوم سیکریٹری پنجاب، آئی جی جیل خانہ جات اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو طلب کیا۔ تاہم ان افراد کی جانب سے مغویوں کی بازیابی کے معاملے میں معذوری ظاہر کئے جانے کے بعد بدھ کے روز چیف سیکرٹری پنجاب اور اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

Parlament in Pakistan Islamabad

پاکستانی پارلیمنٹ کا ایک منظر

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ قیدی ان کے پاس نہیں ۔ اس پر عدالت نے انہیں ایک گھنٹے کا وقت دیا کہ وہ اس بارے میں رپورٹ پیش کریں۔ وقفے کے دوران مغویوں کی جانب سے درخواست گزار عتیق الرحمان نے بتایا کہ انہیں اب امید ہو چلی ہے کہ سپریم کورٹ ان کے بھائی نیاز علی سمیت دیگرمغویوں کو بازیاب کرائے گی۔ عتیق الرحمان نے کہا:

’’ شروع دن سے عدلیہ ہمارے ساتھ بہت اچھا سلوک کر رہی ہے کیونکہ پہلے بھی ان لاپتہ افراد کو جھوٹے مقدمات کے بعد رہا کر دیا گیا تھا اور اب بھی چیف جسٹس صاحب کی کوششوں سے ہمیں پوری امید ہے کہ ہمارا لاپتہ بھائی ضرور ملے گا۔‘‘

اٹارنی جنرل جب دوبارہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ خفیہ ایجنسیاں اس معاملے سے لاعلمی ظاہر کر رہی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :’’ آپ اس وقت سے ڈریں جب چیف سیکریٹری پنجاب آپ کے خلاف گواہی دیں اور یہ کہ جس سے مرضی پوچھیں، لیکن عدالت میں 12 نومبر کو اس بارے میں ٹھوس جواب داخل کریں۔‘‘ اس کے بعد مقدمے کی سماعت جمعے کے روز تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

مقدمے کی سماعت کے بعد ان گیارہ قیدیوں میں سے ایک کے والد نے قدرے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا :’’میرے بیٹے کا نام مظہر الحق ہے۔ پہلے وہ لاپتہ افراد میں تھا جسے 2007ء میں گھر سے اٹھا لیا گیا تھا اور بعد میں اسے دہشت گردی کے مختلف مقدمات میں ملوث قرار دیا گیا۔ پھر انسداد دہشت گردی کی تین عدالتوں نے اسے بری کر دیا۔ اس کے بعد چند لوگ اڈیالہ جیل سے اسے زبردستی اٹھا کر لے گئے ہیں۔ ہمیں تو یہ شک ہے کہ جیل سے اٹھانے کے بعد پیسے لے کر شاید انہیں قتل کر دیا گیا ہے۔ اگر ہمیں ہمارے اپنوں سے زندہ ملا نہیں سکتے تو کم از کم یہ تو بتا سکتے ہیں کہ ان کی قبریں کہاں ہیں۔‘‘

پاکستان میں حکومت نے ان سینکڑوں افراد کی بازیابی کے لیے ایک کمیشن بھی بنا رکھا ہے جو خاص طریقے سے لاپتہ ہو گئے۔ ان افراد کے لواحقین کا الزام ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے ان افراد کو اغواء کر رکھا ہے جبکہ خفیہ ایجنسیاں سپریم کورٹ میں سرکاری وکلاء کے ذریعے ایسے الزامات کی تردید کر رہی ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم،اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس