1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ میں مقیم پاکستانی

امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے سات سال بعد بھی، پاکستانی نژاد عبدالصغیر کا چہرہ اترا ہوا ہے۔

default

عبدالصغیر نیو یارک میں ایک مسجد کی تعمیر کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ ان واقعات کے بعد مسجد بنانے سے زیادہ مسلمان کمیونٹی کی تعمیر نو مشکل عمل ہے۔صغیر کا کہنا ہے کہ وہ مسجد تو بنا لیں گے مگر زندگی کا گیا رہ ستمبر 2001سے پہلے جیسی صورت میں لوٹ آنا بہت مشکل ہو گا۔

گیارہ ستمبر 2001کے واقعات کا ایک گہرااثر اس علاقے پر بھی ہوا جسے اس واقعہ سے قبل منی پاکستان کہا جاتا تھا۔ 2002میں ایف بی آئی نے جب غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف چھاپے مارنے شروع کئے تو اس کا شکار زیادہ تر مسلمان ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد تھے اس کے ساتھ ہی گلی محلوں میں مسلمانوں کے خلاف ایک لہر نے جنم لیا اور جب بہت سے غیر قانونی اور کئی قانونی طور پر رہنے والے مسلمانوں کوبھی امریکہ سے بے دخل کیا گیا تو مسلمان کمیونٹی کی خود اعتمادی جاتی رہی۔ صغیر کے مطابق امریکہ مسلمان کمیونٹی کے لئے ایک بہترین جگہ ہوا کرتی تھی مگر بے یقینی اور بد اعتمادی نے انہیں یہاں سے لوٹ جانے پر مجبور کر دیا۔

World Trade Center: Menschen auf der Flucht

مقامی کمیونٹی کے ایک لیڈر کے مطابق امریکی محکمہ شماریات کے اعداد شمار کے تحت پاکستان سے تعلق رکھنے والے تقریبا 45ہزار افراد یہاں مقیم تھے مگر اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی لیکن 2001کے بعد کتنے لوگ واپس لوٹ گئے یہ کسی کو علم نہیں۔ نیویارک کا علاقہ منی پاکستان اب بھی پاکستان کی روایتی منظر کشی کرتا ہے جہاں انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی کئی دکانوں کے سائن بورڈ نظر آتے ہیں جیسے پنجاب فارمیسی، بسم اللہ فوڈاور پاکیزہ حلال میٹ وغیرہ مگر اب یہاں وہ رونق نظر نہیں آتی جو گیارہ ستمبر001سے قبل ہوا کرتی تھی۔

عبدالصغیر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ منی پاکستان کے علاقے میں مشینوں کے ذریعے مسجد کی تعمیر میں اب بھی مصروف ہیں مگر ان کے چہرے پر صاف پڑھا جا سکتا ہے کہ وہ دوسروں کے کئے ہوئے جرم کی قیمت ادا کر رہے ہیںاور یہ قیمت انہیں اور ان جیسے دوسرے پاکستانیوں کو نجانے کب تک چکاتے رہنا ہے۔

ان دنوں اس علاقے میں کئی دکانوںپر’’کرائے کے لئے خالی ہے‘‘ کے بورڈ آویزاں نظر آتے ہیں۔ یہ علاقہ کبھی صرف بر صغیر کے لوگوں کے لئے مختص ہوا کرتا تھا اور ہر طرف اپنی بولی اور اپنے لوگ دکھائی دیتے تھے مگر اب یہاں کئی دکانیں دوسرے ممالک کے افراد کی بھی نظر آنے لگی ہیں۔ ایک خوف، ایک ڈر نجانے کیوں ان پاکستانی مسلمانوں کے دل میں بیٹھ گیا ہے جو اتنے برس گزر جانے کے باوجود جاتا دکھائی نہیں دیتا۔ معاشرے کے دوسرے افراد کے ذہنوں میں بھی مسلمانوں کے حوالے سے پیدا ہو جانے والا شک جانے کا نام نہیں لے رہا۔ ایک معاشرے میں ایک ساتھ رہنے والے لوگوں کے بیچ ایک گہری خلیج جو چند افراد کی مجرمانہ حرکت سے پیدا ہوئی وہ آج تک جوں کی توں دکھائی دیتی ہے اور ایسے میں افغانستان اور پاکستان میں طالبان کی کاروائیاں گاہے بگاہے اس خلیج میں اضافے کا باعث بھی بنتی رہتی ہیں۔