1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گیارہ ستمبر کی ایک دہائی بعد، امریکی مسلمان مطمئن

امریکہ میں گیارہ ستمبر 2001ء کے سانحے کو ایک دہائی بیت جانے کے بعد منعقد کیے گئے ایک سروے کے مطابق امتیازی رویوں اور نسلی تعصبات کا سامنا کرنے کے باوجود امریکی مسلمانوں کی بڑی تعداد اپنی زندگیوں سے مطمئن دکھائی دیتی ہے۔

default

ٹیکساس کے ایک دوراہے پر شاہ رحمان کی گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی۔ بظاہر یہ ایک معمولی سا حادثہ تھا مگر دوسری گاڑی کا سفید فام ڈرائیور باہر نکل آیا اور اس نے شاہ رحمان کا گریبان پکڑ کر چلاتے ہوئے کہا، ’یہ تمہاری غلطی ہے کیونکہ تم عرب ہو‘۔ پیشے کی اعتبار سے انجینئر بنگلہ دیشی نژاد شاہ رحمان نے بتایا کہ یہ ان امتیازی واقعات میں سے ایک ہے، جن کا انہیں روزمرہ زندگی میں اکثر سامنا کرنا پڑتا ہے۔

امریکہ کے ایک مؤقر تحقیقی ادارے Pew Forum on Religion and Public Life کے ایک حالیہ سروے سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ میں بسنے والے ایک چوتھائی سے زائد مسلمانوں کو مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے یا پھر انہیں ناپسندیدہ القابات سے پکارا جاتا ہے۔ امریکہ کے تین درجن علاقوں میں مساجد کی تعمیر کی مخالفت اور حال ہی میں ایک تفریحی پارک کے جھولوں پر بیٹھنے کے لیے مسلم خواتین کو اسکارف اتارنے کی شرط رکھنے جیسے واقعات ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں کا حصہ بنتے رہتے ہیں، مگر اس تمام امتیازی سلوک کے باوجود امریکہ کی مسلم آبادی وہاں مطمئن ہے اور اکثر مسلمان وہاں رہنا اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔

Muslime beim Gebet

امریکی مسلمان اس بات کا اظہار کرنے کے لیے کیپیٹل ہل کے سامنے جمع ہیں کہ اسلام امن اور رواداری کا مذہب ہے

اڑتیس سالہ شاہ رحمان کا کہنا ہے، ’یہ میرے لیے ایسا ملک ہے، جہاں میں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا ہے۔ اب یہی میرا وطن ہے‘۔ رحمان امریکہ میں مستقل طور پر آباد ہونے سے قبل لیبیا اور کویت میں بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی امریکی شہریوں کے طور پر پرورش کرنا چاہتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ان کا مسلم تشخص بھی برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔ انہیں امید ہے کہ ان کا چھوٹا بیٹا قرآن حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فوجی کالج میں داخلہ لے گا اور شاید امریکی میرین فوج میں خدمات بھی سر انجام دے گا۔

مناسس، ورجینیا کی 34 سالہ فرح حق خود کو ایسا امریکی شہری سمجھتی ہیں، جس کے لیے مسلمان ہونا باعث فخر ہے۔ انہوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد حجاب پہننا شروع کر دیا۔ ابتدا میں وہ فکرمند تھیں کہ لوگ نہ جانے کیا سوچیں، مگر انہیں اندازہ ہوا کہ لوگوں نے انہیں حجاب کے ساتھ نہ صرف قبول کر لیا بلکہ وہ ان کے مذہب کے بارے میں زیادہ سوالات پوچھنے پر بھی آمادہ ہوئے۔ فورم کے سروے کے مطابق سن 2011 میں امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد 27 لاکھ 50 ہزار کے قریب تھی، جن میں سے دو تہائی پہلی نسل کے تارکین وطن تھے۔

Betende Moslems in USA

امریکی مسلمان امریکی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا مسلم تشخص برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلم کمیونٹی طویل عرصے سے امریکی معاشرے کا حصہ ہے اور عام طور پر معاشرے میں مربوط اور پڑھے لکھے افراد پر مشتمل ہے۔ واشنگٹن کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر جان اسپوسیتو کا کہنا ہے، ’گیارہ ستمبر کے بعد مسلم کمیونٹی پر دباؤ بہت بڑھ گیا ہے‘۔

آئیووا کے علاقے Cedar Rapids کے 34 سالہ احسن احمد نے حال ہی میں ریپبلکن پارٹی کی ایک اہم صدارتی تقریب میں شرکت کی تاکہ مسلمانوں کے خلاف سیاسی ماحول کو تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا، ’میں اپنا یا اپنے ملک کا مستقبل انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے عناصر کے ہاتھوں میں نہیں دینا چاہتا‘۔

حالیہ برسوں میں مرکزی سیاسی دھارے میں اسلام سے خوف یا اسلامو فوبیا کافی عام نظر آنے لگا ہے۔ واشنگٹن کی امریکن یونیورسٹی کے پروفیسر اکبر احمد کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر سے قبل اسلامو فوبیا انتہائی کم تھا کیونکہ امریکی عوام میں مسلمانوں کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا، ’دس برس گزرنے کے بعد مجھے احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں‘۔

تاہم خدشات کے باوجود زیادہ نظروں میں آنے سے مسلمانوں کو دوسروں کو اپنے مذہب سے آگاہ کرنے کا ایک مثبت موقع بھی ملا ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM