1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گیارہ ستمبر: ایک دہائی بعد بھی سازشی نظریات مضبوط

بعض امریکی باشندوں کے لیے گیارہ ستمبر کے حملوں میں تین ہزار کے لگ بھگ افراد کی ہلاکت سے بھی بھیانک تصور یہ امکان تھا کہ ان حملوں کے پیچھے خود امریکی حکومت کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

default

امریکہ طویل عرصے سے سازشی نظریات کی زرخیز زمین رہا ہے

لوگوں کی ایک غیر معمولی تعداد سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ہونے والی تحقیقات، ذرائع ابلاغ کی خبروں اور عام سمجھ بوجھ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ گیارہ ستمبر کے قتل عام میں اسامہ بن لادن کے بھیجے ہوئے 19 دہشت گرد شامل نہیں تھے، بلکہ بش انتظامیہ کے اندرونی عناصر یا اسرائیلی ایجنٹوں نے ایک سازش کے ذریعے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کو تباہ کرنے کے لیے پہلے سے نصب دھماکہ خیز مواد اور میزائل استعمال کیے۔

ایک اعتدال پسندانہ نظریہ یہ ہے کہ امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کو خود تو ہلاک نہیں کیا، مگر اسے یہ علم تھا کہ حملے ہونے والے ہیں اور اس نے انہیں روکنے کی کوئی تدابیر اختیار نہیں کیں۔

40 Jahre Mondlandung

سازشی نظریہ سازوں کا کہنا ہے کہ چاند پر امریکی خلابازوں کی چہل قدمی کے مناظر ایک اسٹوڈیو میں فلمائے گئے

دونوں صورتوں میں اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بش انتظامیہ کو عراق اور افغانستان پر حملوں اور امریکہ میں شہری آزادیوں کو لگام دینے کے لیے کوئی جواز درکار تھا۔

سن 2006 میں Scripps Howard کے سرانجام دیے گئے رائے عامہ کے ایک سروے سے پتہ چلا کہ 36 فی صد امریکیوں کے خیال میں گیارہ ستمبر کا واقعہ کسی نہ کسی لحاظ سے امریکی حکومت کی سازش کا نتیجہ تھا۔ بعد میں ہونے والے سرویز کو نہ صرف عرب دنیا بلکہ فرانس میں بھی کافی حمایت حاصل ہوئی۔ فرانس میں گیارہ ستمبر کے فوری بعد ’Horrifying Fraud‘ نامی کتاب کی دو لاکھ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں۔

اب اس واقعے کو ایک دہائی گزر جانے کے بعد بھی سازشی نظریات تحریک اپنے بھرپور انداز میں موجود ہے۔

 Scholars for 9/11 Truth and Justice یا Architects and Engineers for 9/11 Truth and Justice کی طرح کے گروپ خود کو سنجیدہ محققین سمجھتے ہیں جو شاید امریکی تاریخ کے سب سے بڑے جھوٹ سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔

John F. Kennedy am Tag seines Todes

سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کو بھی سی آئی اے سے لے کر کیوبا کے جلاوطن افراد تک کا کام سمجھا گیا

’The New Pearl Harbor‘ اور ’Cognitive Infiltration‘ جیسی کتابوں کے مصنف ڈیوڈ رے گرفن کا کہنا ہے کہ حقیقی بیوقوف وہ ہیں جو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر ہونے والے حملوں میں امریکی حکومت کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہیں۔ کیلیفورنیا کے KFPA ریڈیو کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا، ’’اگر ہم معجزوں کی تعریف یہ کریں کہ وہ سائنسی اصولوں اور خاص طور پر طبیعیات اور کیمیا کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو پھر سرکاری مؤقف میں درجنوں ایسے معجزے موجود ہیں۔‘‘

گیارہ ستمبر کے حوالے سے اہم سازشی نظریات کا خلاصہ ’Loose Change‘ نامی ایک امریکی دستاویزی فلم میں پیش کیا گیا ہے۔ اس میں شامل چند اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:

۔۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز صرف ہوائی جہاز کے ٹکرانے سے زمین بوس نہیں ہو سکتے تھے۔

۔۔ ورلڈ ٹریڈ ٹاور نمبر 7 کا ہوائی جہاز نہ ٹکرانے کے باوجود تیزی سے زمین بوس ہو جانا اس بات کی علامت ہے کہ اسے پیشہ ورانہ انداز میں منہدم کیا گیا ہے۔

۔۔ گیارہ ستمبر کے دن وال اسٹریٹ پر اسٹاکس کی تجارت پر ان حملوں کا براہ راست اثر اس بات کا غماز ہے کہ بعض لوگوں کو پیشگی علم تھا کہ کیا ہونے لگا ہے۔

۔۔ پینٹاگون سے امیریکن ایئرلائنز کی پرواز 77 کی بجائے ایک میزائل ٹکرایا تھا۔

۔۔ یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز 93 پنسلوانیا میں گرنے کی بجائے فضا میں ہی غائب ہو گئی تھی اور اسے شاید کسی لڑاکا طیارے نے مار گرایا تھا۔

Pentagon in Flammen

گیارہ ستمبر کے سازشی نظریات میں سے ایک یہ ہے کہ پینٹاگون کی عمارت سے ہوائی جہاز کی بجائے میزائل ٹکرایا تھا

امریکہ طویل عرصے سے سازشی نظریات کی زرخیز زمین رہا ہے۔ اس متوازی دنیا میں سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل میں سی آئی اے سے لے کر کیوبا کے باغیوں تک کوئی بھی ملوث ہو سکتا تھا۔ چاند پر چہل قدمی کے ویڈیو مناظر امریکہ کے کسی اسٹوڈیو میں فلمائے گئے اور ویت نام میں بانس کی جیلوں میں ابھی تک امریکی فوجی قید ہیں۔ اس میں تازہ ترین اضافہ موجودہ امریکی صدر باراک اوباما کی جائے پیدائش کے حوالے سے پایا جانے والا تنازعہ ہے جس کے مطابق چونکہ وہ امریکی سرزمین پر پیدا نہیں ہوئے لہٰذا وہ امریکہ کے جائز صدر نہیں ہیں۔

اگرچہ مختلف ویب سائٹوں پر ان سازشی نظریات کو جھٹلانے کے لیے ثبوت پیش کیے گئے ہیں مگر لوگوں کی ایک خاصی بڑی تعداد ان پر اب بھی یقین رکھتی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس میں تاریخ کی استاد کیتھی اولمسٹیڈ کا کہنا ہے کہ ان سازشی نظریات کو ان وجوہات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ سابق امریکی صدر جارج بش نے عراق کے سابق صدر صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی اور گیارہ ستمبر سے ان کا تعلق جوڑنے میں اپنی بھرپور توانائیاں صرف کر دی تھیں تاہم وہاں سے ایسا کچھ نہیں ملا تھا۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امجد علی

DW.COM