1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

گہرے سمندر ميں تيل کے ليے کھدائی کيوں خطرناک ہے

معدنی تيل کے بہت سے ذخائر گہرے سمندروں کی تہہ ميں پوشيدہ ہيں۔ گہرے سمندر ميں تيل کی کھدائی مشکل، پيچيدہ اور مہنگی ہے۔

رائل ڈچ شيل کا ايک آئل ڈرلنگ پليٹ فارم

رائل ڈچ شيل کا ايک آئل ڈرلنگ پليٹ فارم

دنیا بھر میں تیل کی بڑھتی ہوئی طلب آئل کمپنيوں کو سمندر کی تہہ میں لے جا رہی ہے۔ ليکن سمندر کی تہہ ميں تيل کی کھدائی ماحول کے ليے بہت سے خطرات رکھتی ہے کيونکہ پائپوں کے پھٹنے اور اُن ميں سوراخوں کا بہت زيادہ امکان رہتا ہے۔

وہ دن بيت گئے جب مغربی آئل فرمز چھوٹے ڈرلنگ پليٹ فارم تعمير کر کے جلدی جلدی ڈرلنگ کرتی تھيں اور فوراً ہی معدنی تيل ابلنے لگتا تھا۔ آسانی سے تيل اگلنے والے ذخائر اب زيادہ تر رياستی اداروں کے زير نگرانی ہيں اور وہی وہاں سے تيل نکال رہے ہيں، مثلاً سعودی عرب کی Aramco آئل کمپنی۔

مغربی آئل فرمز مثلاً بی۔پی، شيل يا شيورون ٹيکساکو تيل کے اُن ذخائر پر اکتفا کر رہی ہیں، جہاں سے تيل نکالنا پيچيدہ اور مشکل ہے۔ معدنی تيل اور گيس کے ايک ماہر نے کہا: ’’ہماری تيل کی طلب ہميں گہرے سمندر کی طرف لے جا رہی ہے۔ نئے ذخائر ہميں وہيں مل رہے ہيں، جہاں اس سے پہلے کوئی نہيں پہنچا تھا: سمندر ميں مسلسل زيادہ گہرائی ميں، قطب شمالی اورقطب جنوبی ميں۔‘‘

سعودی عرب ميں آرامکو کی ايک آئل فيلڈ

سعودی عرب ميں آرامکو کی ايک آئل فيلڈ

بہت سی آئل کمپنياں تيل کی تلاش ميں گہرے سمندروں کا رخ کر رہی ہيں، جہاں طبقات الارضی کيفيات بہت پيچيدہ ہيں۔ اسی ليے ايک عرصے تک گہرے سمندر ميں تيل کے ليے کی جانے والی کھدائی بہت مشکل اور مہنگی سمجھی جاتی رہی۔ ليکن اس کے بعد تيل کی قيمت ميں اضافہ ہونا شروع ہوگيا اور اس کے نتيجے ميں اب گہرے سمندر ميں تيل نکالنے کے بھاری اخراجات کے باوجود يہ کاروبار منافع بخش بن گيا ہے۔

اب آئل فيلڈز کے انجينئر روزانہ ہی نئے نئے ريکارڈز قائم کر رہے ہيں۔ آئل ٹيکنالوجی کے ايک ماہر نے کہا کہ اس دوران 1500 ميٹر کی گہرائی تک کھدائی کوئی چيلنج نہيں رہی بلکہ سمندر ميں 2000 يا 2500 ميٹر تک کی گہرائی ميں جانا ہی کوئی چيلنج سمجھا جاتا ہے، مثلاً برازيل کے ساحل کے قريب يا خليج ميکسيکو ميں سمندر کے اندر 2000 يا 2300 ميٹرتک کی گہرائی ميں کھدائی۔

خليج ميکسيکو ميں ايک آئل پليٹ فارم دھماکے کے بعد ڈوبتے ہوئے

خليج ميکسيکو ميں ايک آئل پليٹ فارم دھماکے کے بعد ڈوبتے ہوئے

جرمنی کے شہر ہینوور ميں طبقات الارضی علوم اور خام مال کے علوم کے وفاقی ادارے کے مطابق دنيا ميں تيل کے معلوم ذخائر کا تين چو تھائی حصہ سمندروں کی تہہ کے نيچے جمع ہے۔ اس دوران تيل کے جو نئے ذخائر دريافت ہو رہے ہيں، اُن ميں سے زيادہ تر ساحلوں کے قريب ہيں۔ خليج برازيل، ميکسيکو اور انگولا کے درميان سنہری مثلث کہلائے جانے والے جنوبی بحر اوقيانوس کے علاقے ميں خاص طور پر تيل کے بڑے ذخائر پائے جاتے ہيں۔

گہرے سمندر کی تہہ ميں تيل کے ليے کی جانے والی ڈرلنگ کو اس کے اوپر تعميرشدہ آئل پليٹ فارم سے ريموٹ آلات کے ذريعے کنٹرول کيا جاتا ہے۔ کھدائی کے شروع ميں قطر کوئی 70 سينٹی ميٹر ہوتا ہے، ليکن جيسے جيسے گہرائی ميں کھدائی ہوتی ہے، ويسے ويسے کھدائی کے سوراخ کا يہ قطر کم ہوتا جاتا ہے۔ گہرائی ميں اضافے کے ساتھ ساتھ زيرآب چٹانوں اور پتھروں ميں ڈرل کرنا بھی مسلسل زيادہ دشوار ہوتا جاتا ہے اور کھودے جانے والے سوراخ کا قطر اتنا ہی چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔ عام طور پر تيل کے ذخيرے تک پہنچتے وقت يہ قطر صرف 17 يا 18 سينٹی ميٹر رہ جاتا ہے۔ سمندر ميں سطح آب سے ہزاروں ميٹر کی گہرائی ميں اس چھوٹے سے سوراخ سے تيل اچھلتا ہوا باہر آتا ہے۔

ايک جرمن يونيورسٹی کے ماہر طبقات الارض پروفيسر کلاؤس بٹسر نے کہاکہ تيل کے پائپوں کا انتہائی مضبوط ہونا ضروری ہے کيونکہ انہيں پانی کے دباؤ کے علاوہ درجہء حرارت ميں بہت زيادہ اتار چڑھاؤ کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ نکلنے والا تيل انتہائی گرم اور ابل رہا ہوتا ہے۔ پائپ کے اندر اوپر کی طرف آتے ہوئے تيل ٹھنڈا ہونے لگتا ہے، جس سے قلميں بننے لگتی ہيں جو پائپوں کو بند کرديتی ہيں۔ يہ مادے بہت جارح ہوتے ہيں اور پائپوں کو زنگ لگاتے اور ان ميں سوراخ بھی کر ديتے ہيں۔ اکثر پائپوں سے تيل رستا رہتا ہے۔

رپورٹ: نيلس ناؤمن، يوڈتھ ہارٹل / شہاب احمد صديقی

ادارت: شادی خان سيف

DW.COM