1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گھر کے مردوں کے سامنے بھارتی ماں بیٹی کا گینگ ریپ

بھارت میں پانچ ملزمان نے سفر پر نکلے ایک خاندان کی گاڑی روک کر مردوں کو باندھ دیا اور ایک خاتون اور اس کی تیرہ سالہ بیٹی کو دیگر اہل خانہ کے سامنے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔ اس جرم کا ارتکاب بلند شہر کے نواح میں کیا گیا۔

ملکی دارالحکومت نئی دہلی سے ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق پولیس نے آج اتوار اکتیس جولائی کے روز بتایا کہ ایک خاتون اور اس کی نابالغ بیٹی کے گینگ ریپ کا یہ قابل مذمت واقعہ نئی دہلی سے 65 کلو میٹر مشرق کی طرف واقع بلند شہر کے نواح میں جمعہ انتیس جولائی کو رات گئے پیش آیا۔

مقامی پولیس اہل کار رامیشور سنگھ نے بتایا کہ ایک خاندان اپنی فیملی کار میں سورا کہیں جا رہا تھا کہ پانچ ملزمان نے، جو سارے مرد تھے، بلند شہر کے قریب اچانک سڑک پر آ کر اس گاڑی کو روک لیا۔ اس پولیس اہل کار کا کہنا تھا، ’’ان پانچوں ملزمان نے گاڑی میں سوار افراد کو زبردستی باہر نکالا اور انہیں گھسیٹتے ہوئے قریبی کھیتوں میں لے گئے۔‘‘

پولیس کے مطابق، ’’ملزمان نے قریبی کھیتوں میں لے جا کر پہلے تو اس خاندان کے ارکان سے نقدی، زیورات اور موبائل فون چھین لیے اور پھر مردوں کو باندھ دیا۔ اس کے بعد ان درندہ صفت ملزمان نے ان بے بس مردوں کے سامنے ان کی ہم سفر ایک خاتون اور اس کی 13 سالہ بیٹی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔‘‘

رامیشور سنگھ نے ڈی پی اے کو بتایا کہ آج اتوار کی صبح تک کوئی بھی ملزم گرفتار نہیں کیا جا سکا تھا تاہم پولیس کے تفتیشی ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جا چکی ہے، جو ملزمان کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس جرم کے بعد بھارت میں سول سوسائٹی کے ارکان اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی کئی ملکی تنظیموں نے سول انتظامیہ اور پولیس پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ گزشتہ چند برسوں سے بہت زیادہ ہو جانے والے خواتین کے خلاف جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔

گزشتہ ہفتے بھارت میں سماجی طور پر نچلی ذات قرار دی جانے والی دلت آبادی کی ایک 14 سالہ لڑکی ایک ہی ملزم کے ہاتھوں دوسری مرتبہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد انتقال کر گئی تھی۔

نئی دہلی میں 2012ء میں ایک چلتی بس میں ایک نوجوان طالبہ کے کئی افراد کے ہاتھوں گینگ ریپ اور پھر شدید زخمی ہو جانے کے بعد ہسپتال میں اس کی موت کے بعد سے عورتوں کے خلاف جنسی جرائم ایک انتہائی اہم قومی موضوع بن چکے ہیں۔

نئی دہلی میں 2012ء کے گینگ ریپ کے واقعے کے بعد سے حکومت ریپ سے متعلق قوانین زیادہ سخت بنا چکی ہے لیکن سماجی کارکنوں کے مطابق ملک میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم سے متعلق معاشرتی رویے ابھی تک تبدیل نہیں ہوئے اور خواتین اور نابالغ لڑکیوں پر ایسے مجرمانہ حملے ابھی تک روز کا معمول ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات