1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گھر کے بستر پر ’ پرنسپل‘ کی گھنٹی

اسکول جانے میں سستی کی ایک وجہ یہ ہے کہ بچوں کے لیے صبح سویرے اٹھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ امریکی ریاست میساچیوسٹ کے ایک ہائی اسکول نے سست اور کاہل بچوں کے صبح سویرے اٹھنے کے ایک نئے طریقے پر عمل کرنا شروع کیا ہے۔

default

کہتے ہیں کہ بچے اپنے والدین سے زیادہ اسکول ٹیچر سے ڈرتے ہیں۔ ماں باپ کی بات سے انکار کرنے میں تو انہیں آسانی ہوتی ہے لیکن اگر ٹیچر انہیں کوئی کام کہے تو اس کے سامنے اِدھر اُدھر گردن گھماتے ہوئے ’نہیں‘ کہنا ان کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔

Interkulturelle Schule Bild 1

انتظامیہ کو روبو کالز سے بہت سے امیدیں وابستہ ہیں

اس کا ثبوت امریکی ریاست میساچیوسٹ کے ایک اسکول نے پیش کیا ہے۔ ہر اسکول کی طرح اس ہائی اسکول میں بھی ایسے بچے، جنہیں اسکول آنے میں دلچسپی بہت کم ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھنے میں دیر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اسکول تاخیر سے پہنچتے ہیں اور اگر زیادہ دیر ہو جائے تو وہ اسکول کا رخ ہی نہیں کرتے۔

اب ایسے بچوں کو صبح بستر سے باہر نکالنے کے لیے ایک فون آتا ہے، جس میں ان کے پرنسپل کی آواز انہیں اٹھنے اور اسکول کا رخ کرنے کا پیغام دیتی ہے۔ اب ذرا سوچئے، جب صبح سویرے کسی بچے کے کان میں امی کے بجائے پہلی آواز اس کے پرنسپل کی ہو اور وہ سخت لہجے میں اس سے مخاطب ہو، تو اس بچے پر کیا بیتے گی؟ یہ پیغام پہلے سے ریکار ڈ شدہ ہے۔’’صبح کے سوا چھ بجے چکے ہیں اور آپ کا اسکول آپ سے مخاطب ہے‘‘ یہ پیغام ڈرَفی ہائی اسکول کے سب سے کاہل بچے روز سنتے ہیں۔

یہ روبوکالزکہلاتی ہیں۔ اسکول میں پہلا پیریڈ پونے آٹھ بجے شروع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کالز کے ذریعے والدین کو موسم اور اسکول میں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں بھی مطلع کیا جاتا ہے۔

Kinder Schulweg

حاضری بڑھانے کا یہ طریقہ نیویارک اور الی نوئے میں کامیاب رہا ہے

تاخیر سے آنے اورغیر حاضری کو کم کرنے کے اس طریقے کے نیویارک اور الی نوئے میں بہت سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ نیویارک میں اس کام کے لیے اسکول کے پرنسپل کے بجائے سابق باسکٹ بال کے سٹار میجک جونسن کی آواز استعمال کی گئی ہے۔

ڈرفی کے اس ہائی اسکول کے 20 فیصد لڑکے باقاعدگی سے روبوکالز موصول کرتے ہیں۔ انتظامیہ یہاں بھی پر امید ہے کہ روبوکالز اپنا کام دکھائیں گی اور حاضری 95 فیصد تک بڑھ جائے گی۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت:امتیاز احمد

DW.COM