1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گھروں میں کام کرنے والے مردوں اور خواتین کے مسائل

جنوبی ایشیا میں آج جمعرات گھروں میں کام کرنے والے کارکنوں اور مزدوروں(ہوم بیسڈ ورکرز) کا خصوصی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد گھروں میں بیٹھ کر اجرت پر کام کرنے والے مردوں اور خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔

default

اس حوالے سے نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں ایک بڑی ریلی نکالی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ تصویری نمائش اور گھریلو مزدوروں کی بنائی ہوئی مصنوعات کو بھی پہلی مرتبہ مارکیٹ میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے شہر لاہور میں بہت سے شہری لاہور پریس کلب کے باہر موم بتیاں جلا کر گھریلو کارکنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے حال ہی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں گھر پر کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد ہے۔ ان میں سے 80 فیصد خواتین ہیں، جن میں سے زیادہ تر دیہی علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔

گھر سے کام کرنے والے مرد و خواتین کی بہت بڑی تعداد جوتا سازی، چوڑیاں بنانے، جیولری تیار کرنے، لفافے بنانے، سلائی کڑھائی کرنے، پیکنگ اور قالین بافی جیسے شعبوں میں کام کرتی ہے۔ باقی ماندہ معاشرے کی طرف سے نظر انداز کیے جانے والے یہ مزدور چونکہ غیر منظم ہیں، اس لیے ان کے مسائل کی طرف ماضی میں بہت ہی کم توجہ دی گئی ہے۔

Flash-Galerie Final Iran Bildergalerie 19-11

گھریلو مزدور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ہوم نیٹ پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ام لیلیٰ اظہر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ہوم بیسڈ ورکرز کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں سرکاری اصطلاح میں مزدور تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ انہیں نہ تو کوئی آئینی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی انہیں دیگر مزدوروں کو سرکاری طور پر ملنے والی سماجی اور معاشی مراعات میسر ہیں۔

ام لیلیٰ کے بقول ملک میں ہوم بیسڈ ورکرز کے حوالے سے مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں موجود 73 لیبر قوانین میں سے کوئی ایک بھی ہوم بیسڈ ورکرز کے حقوق کا تحفظ نہیں کرتا۔ ام لیلیٰ اظہر کہتی ہیں کہ یہ بڑی غیرمنصفانہ بات ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور دیگر کاروباری ادارے ان ورکرز کا استحصال کر کے لمبا چوڑا منافع کما رہے ہیں جبکہ خود ان کارکنوں کی حالت زار کو سنوارنے کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا۔

صدیقاں نامی ایک گھریلو مزدور خاتون نے بتایا کہ اگر وہ اجرت پرکام کرنے کی بجائے اپنے تیار کردہ ملبوسات کو براہ راست مارکیٹ میں بیچے، تو اسے کافی زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے بقول اس کے پاس کاروبار کے لیے سرمایہ نہیں اور اس جیسے ورکروں کو کوئی ادارہ آسانی سے قرضے بھی نہیں دیتا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیوں میں ہوم بیسڈ ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کرنے کے لیے قراردادیں پیش کی جا چکی ہیں۔

معروف تجزیہ نگار سلمان عابد نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ہوم بیسڈ ورکرز کی بہتری کے لیے ان کی رجسٹریشن کرنے، انہیں طبی سہولتیں فراہم کرنے، مارکیٹ تک رسائی دینے، تربیت فراہم کرنے اور ان کو منظم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ان کے بقول ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے ان مزدوروں کے حالات کار کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں حکومت کو تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ قومی پالیسی بنانی چاہیے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM