’گوگی‘ کی خالق پہلی پاکستانی کارٹونسٹ کا نیا منصوبہ | فن و ثقافت | DW | 09.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’گوگی‘ کی خالق پہلی پاکستانی کارٹونسٹ کا نیا منصوبہ

نگار نذر پاکستان کی پہلی پروفیشنل خاتون کارٹونسٹ ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے کارٹونز اور پتلی تماشوں کے ذریعے نہ صرف پاکستانی بچوں کو محظوظ کر رہی ہیں بلکہ ان کی تعلیمی اور فکری تربیت میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

وہ اپنے مشہور کارٹون کردار ’گوگی‘ کی مدد سے کئی بچوں کو ’ہم درد، مددگار اور محب وطن پاکستانی‘ بنا چکی ہیں۔ ان کی موبائل لائبریری مختلف اسکولوں میں بچوں کو دلچسپ کتابیں بھی فراہم کرتی ہے۔

باسٹھ سالہ نگار نذر اسلام آباد میں ’گوگی اسٹوڈیوز‘ کی چیف ایگزیکٹو ہیں اور شدت پسندی، خواتین کے وقار، سچائی سمیت مختلف موضوعات پر بچوں کے لیے 17 کتابیں تحریر کر چکی ہیں۔ ان میں سے کئی کتابیں اُن کے بنائے ہوئے کارٹونز سے مزین ہیں۔

Pakistan Cartoonistin Nigar Nazar

نگار نظر پاکستان کی پہلی پروفیشنل کارٹونسٹ خاتون ہیں۔

9 دسمبر کو دنیا بھر میں انسدادِ بدعنوانی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کے موقع پر انہوں نے بچوں کے لیے ایک رنگا رنگ تصویری کتاب شائع کی ہے، جو بچوں کو بدعنوانی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کے بارے میں ہے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں بدعنوانی پورے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے بدعنوان ممالک کی فہرست میں نمایاں ہے۔

نگار نذر نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’رشوت ستانی، امارت کا دکھاوا اور بد عنوانی جیسے عوامل پاکستانی معاشرے کو کمزور کر رہے ہیں، ہمیں اپنی نئی نسل کو درست اور غلط راستے کا فرق سکھانا ہو گا۔‘‘

اپنی کتاب کے بارے میں بتاتے ہوئے نگار نذر کہتی ہیں، ’’میں نے رنگ برنگی تصویروں کے ذریعے بچوں کو صحیح اور غلط کا فرق سکھایا ہے، تاکہ وہ بچپن سے ہی اپنے والدین سے ناجائز اور ان کی استطاعت سے بڑھ کر تحائف کا مطالبہ نہ کریں۔‘‘ ان کا مزید کہنا ہے، ’’بہتر تربیت آپ کو عبدالستار ایدھی جیسا انسان بنا سکتی ہے جبکہ غلط تربیت آپ کو جرائم، دہشت گردی اور بد عنوانی جیسی برائیوں کی طرف مائل کر سکتی ہے۔‘‘

وہ اپنے کارٹونز کے ذریعے پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کے خلاف بھی جنگ کر رہی ہیں۔ نگار نذر پاکستان کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کو یہ کتابیں فراہم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’’شدت پسندی کے خلاف میری کتاب ’مہربان اجنبی سے ہوشیار‘ بچوں کو ایسے افراد سے خبردار کرتی ہے، جو غلط تعلیمات اور ترغیب سے بچوں کو خود کش بمبار بناتے ہیں۔‘‘ نگار نذر کی رائے میں معاشرے میں تبدیلی نئی نسل ہی لا سکتی ہے، بچوں کے رویوں کو بدل کر انہیں بہتر شہری بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں اپنے مثبت کرادر پر انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے فاطمہ جناح ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔