1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

گوگل کے گلے سے چینی سنسرشپ نہیں اتر رہی

گوگل نے یہ دھمکی چین میں پائی جانے والی سنسرشپ کے خلاف، اوراْس کے مطابق چین میں ہیکرز کی جانب سے کئے گئے حملوں، خاص طور سے انسانی حقوق کے کارکنوں کے ای میل اکاؤنٹس کی جاسوسی کے رد عمل میں دی ہے۔

default

چینی سنسرشپ قبول نہیں، گوگل

شاذونادر ہی بزنس کمپنیوں کی خبریں میڈیا میں اتنی زیادہ شہ سرخیوں کی وجہ بنتی ہیں جتنی کہ انٹرنیٹ کمپنی گوگل کی چین میں ممکنہ طور پر اپنی سروسز روک دینے کی خبر بنی ہے۔ بہت کم ہی ایسے اعلانات مغربی بنیادی جمہوری اقدارکواتنا متاثرکرتے ہیں جتنا کہ سرچ انجن گوگل کی جانب سے حال میں سامنے آنے والے اس بیان نے کیا کہ یہ ادارہ چین میں اپنی سرگرمیاں جلد ہی بند کر سکتا ہے۔

Google China

بیجنگ میں انٹرنیٹ کمپنی گوگل کا دفتر

گوگل نے یہ دھمکی چین میں پائی جانے والی سنسرشپ کے خلاف، اوراْس کے مطابق چین میں ہیکرز کی جانب سے کئے گئے حملوں، خاص طور سے انسانی حقوق کے کارکنوں کے ای میل اکاؤنٹس کی جاسوسی کے رد عمل میں دی ہے۔ یہ ایک اعلان جنگ ہے، جوانٹرنیٹ سرچ انجن کا کام کرنے والے سب سے بڑے ادارے گوگل کے انصاف کے شعبے کے چیف ڈیوڈ سمن نے ایک تجارتی بلاگ کے ذریعے چینی حکومت کے خلاف کیا ہے، بیجنگ حکومت کی طرف سے پابندیوں اور مختلف سوچ اور رائے رکھنے والے انسانوں کے تعاقب اور انہیں زیر دباؤ لانے کے عمل کے خلاف احتجاج کے طور پر۔ ڈیوڈ سمن اس سارے معاملے کو عالمی سطح پر زیر بحث موضوع یعنی ’چین میں آزادئ رائے‘ کے تناظر میں پیش کر رہے ہیں۔ سرچ مشین گوگل کے لئے آزادئ رائے کا حق اور صارفین میں احساس تحفظ اور ان کے ادارے پر اعتماد ہی ان کے کاروبار کی بنیاد ہے۔ اس امکان کو تسلیم کیا جانا چاہئے کہ گوگل کے اعلیٰ عہدیدار چین میں اپنے ادارے کی خدمات روک دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ جس کے موقف میں کوئی لچک ہو اور جو کسی معاملے میں ڈیل کی گنجائش باقی رکھتا ہے، وہ اتنا شور نہیں کرتا۔ چین میں ہیکرز کے حملوں کی خبر عام ہونے سے پہلے وائٹ ہاؤس کو بھی اس بحث میں شامل کرنے کا مقصد، امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا چین سے ہیکرز کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی ای میلز کو ہدف بنانے کے عمل کی وضاحت کا زور دار آواز میں مطالبہ، یہ سب کیا ظاہر کرتا ہے؟ تاہم چین میں گوگل کی طرف سے کئے جانے والے شور کی آواز سنائی نہیں دے رہی کیونکہ وہاں خبروں پر سخت سنسرشپ لگی ہے۔ اگر گوگل چین میں اپنی خدمات روک بھی دے تو وہاں کے انٹرنیٹ صارفین کی اکثریت متاثر نہیں ہوگی، کیونکہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح گوگل چین میں انٹرنیٹ مارکیٹ کی قیادت نہیں کر رہا بلکہ اس منڈی میں مقابلے کی دوڑ میں کافی پیچھے ہے۔ اس بارے میں اب قیاس آرائیاں ہی کی جا سکتی ہیں کہ آیا گوگل چین میں اپنی سرگرمیوں پر سخت احتجاج کے چار سال بعد سروسز روک دینے کا فیصلہ چین میں پائی جانے والی انسانی حقوق کی صورتحال کے تحت کرتا ہے یا اُسے ایسا کرنا ہی تھا کیونکہ چینی مارکیٹ سے اُسے کسی خاطر خواہ منافع کی اُمید نہیں ہے۔

تبصرہ: ماتھیاس ہائن

تحریر: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM