1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گوگل کے نئے بھارتی نژاد سربراہ سے ملیے

سندر پچائی کا نام شاید آپ پہلی مرتبہ سن رہے ہوں لیکن گوگل کی معروف ترین مصنوعات کے پیچھے انہی کا ہاتھ ہے۔ گوگل کمپنی میں اگر سندر پچائی نہ ہوتے تو شاید گوگل براؤزر اور اینڈرائڈ سافٹ ویئر بھی سامنے نہ آتے۔

گوگل نے اپنے کپمنی ڈھانچے کو تبدیل کرتے ہوئے ایک نئی مادر کمپنی ’ایلفابَیٹ‘ بنائی ہے۔ اس نئی کپمنی کے سربراہ تو گوگل کے اب تک کے سربراہ لیری پیج ہی ہوں گے لیکن تینتالیس سالہ پچائی کو انٹرنیٹ کی دنیا میں ’ٹائٹن‘ کہلانے والی کمپنی گوگل کا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر یا سی ای او نامزد کر دیا گیا ہے۔ پچائی اب ’ایلفابَیٹ‘ کی اس ذیلی کپمنی کی نگرانی کریں گے، جو گوگل کہلاتی ہے۔ پچائی گوگل کی سربراہی کرنے کے علاوہ آئندہ اس کمپنی کی مصنوعات مثلاﹰ سرچ انجن، میپس، یوٹیوب اور اینڈرائڈ سسٹم کی ترقی میں معاونت بھی کرتے رہیں گے۔

اس حوالے سے پیر دس اگست کے روز گوگل کی نئی ’مدر کمپنی‘ کے سربراہ لیری پیج نے پچائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ’’میں خود کو خوش قسمت تصور کرتا ہوں کیونکہ میرے پاس ایک ایسا باصلاحیت انسان موجود ہے، جو گوگل کو بھی چلا رہا ہے اور وہ توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘

سندر پچائی سن دو ہزار چار سے گوگل سے وابستہ ہیں۔ پیج کا کہنا تھا کہ وہ پچائی کی ’ترقی اور کمپنی سے وابستگی‘ سے متاثر ہوئے ہیں اور انہوں نے پچائی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں سیکھنے کا ہر موقع فراہم کریں گے، ’’میں سندر کو ملتا رہتا ہوں، اس کی اور کمپنی کی ہر اس طریقے سے مدد کرتا ہوں، جو میں کر سکتا ہوں اور ظاہر ہے کہ میں یہ سلسلہ جاری رکھوں گا۔‘‘

اس سے پہلے سندر پچائی گوگل مصنوعات کے نائب سربراہ تھے۔ وہ اس ٹیم کے بھی ساتھ رہ چکے ہیں، جس نے سن دو ہزار آٹھ میں گوگل براؤزر لانچ کیا تھا۔ اس کے علاوہ سندر پچائی گوگل کی سرچ پراڈکٹس ٹول بار، ڈیسک ٹاپ سرچ، گیجٹس اور گوگل گیئر وغیرہ کی تیاری اور ترقی میں بھی شامل رہے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق غیر معروف سندر نرم گو ہیں اور ایک عرصے سے پیج کے دست راست کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

آبائی طور پر سندر پچائی کا تعلق جنوب مشرقی بھارتی صوبے تامل ناڈو سے ہے۔ انہوں نے اپنی بیچلر کی ڈگری خراگپور میں انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے حاصل کی تھی۔ انہوں نے سٹینفورڈ یونیورسٹی سے سائنس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی جبکہ انہوں نے امریکا میں پنسلوانیا یونیورسٹی کے وارٹن اسکول سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں بھی ماسٹرز ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔