1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

گوگل کی چینی حکومت کو خوش کرنے کی کوشش

انٹرنیٹ جائنٹ گوگل نے انٹرنیٹ کے چینی صارفین کی ’سرچ ‘کو ہانگ کانگ کے پورٹل کی جانب بھیجنے کا سلسلہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

default

اس قدم سے وہ بیجنگ حکام کو خوش کرنا چاہتا ہے تاکہ ’گوگل۔چین‘ کے لائسنس کی تجدید کی جاسکے۔ چین دنیا میں انٹرنیٹ کے استعمال کی سب سے بڑی منڈی ہے اور امریکی کمپنی گوگل کسی صورت بھی اس منڈی کو کھونا نہیں چاہتی۔ حالیہ پیشرفت کے بعد چینی صارفین کو پہلے google.cn پر آنے کا کہا جاتا ہے، جس کے بعد اس سائٹ پر کہیں بھی کلک کرنے سے وہ google.com.hk کی جانب بھیج دئے جاتے ہیں۔ اس سے قبل یہ ہوتا تھا کہ صارفین کو فوری طور پر ہانگ کانگ کے اس غیر سنسر شدہ پورٹل کی جانب بھیجا جارہا تھا جس سے بیجنگ حکومت سخت ناراض تھی۔

ہانگ کانگ کے پورٹل سے بھی بعض ایسی ویب سائٹس تک نہیں پہنچا جاسکتا ہے جسے بیجنگ حکومت نے سنسر کر رکھا ہے۔ گوگل میں قانونی امور کے سربراہ ڈیوڈ ڈرمونڈ کے مطابق، ’’ چینی حکام سے ملاقاتوں کے بعد یہ واضح تاثر ملا ہے کہ وہ صارفین کو براہ راست ہانگ کانگ کے پورٹل پر بھیجنے سے خوش نہیں اور اگر گوگل ایسا کرتا رہے گا تو اس کے لائسنس کی تجدید نہیں کی جائے گی۔

Google in China Internet

چین کے 380 ملین انٹرنیٹ صارفین کو اپنی جانب راغب رکھنے کے لئے گوگل کو Baidu جیسے حریف کا بھی سامنا ہے

‘‘

اس لائسنس کے بغیر گوگل google.cn جیسی کمرشل ویب سائٹس نہیں چلا سکے گا۔ ادھر امریکہ کی Nasdaq سٹاک مارکیٹ میں گوگل کے حصص کی قیمت میں تین فیصد سے زائد کی کمی ہوئی ہے۔ چین کے 380 ملین انٹرنیٹ صارفین کو اپنی جانب راغب رکھنے کے لئے گوگل کو Baidu جیسے حریف کا بھی سامنا ہے۔ چائنا موبائل نے حال ہی میں گوگل کے آپریٹنگ سسٹم Andorid پر چلنے والے موبائل فون متعارف کروائے ہیں جس کی کامیابی کی بہت امید ہے۔

رواں سال مارچ میں گوگل کے شریک بانی سیرگے برین کا کہنا تھا کہ چینی انٹرنیٹ صارفین کو ہانگ کانگ کی سائٹ پر ری ڈائریکٹ کرنے کا مشورہ تنازعے کے عارضی حل کے لئے چینی حکومت کی جانب سے دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ گوگل نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ سنسر شپ اور ہیکنگ کی وجہ سے وہ چین سے اپنا کاروبار سمیٹ رہا ہے۔

گوگل کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے چینی گروپوں اور افراد کے ای میل ایڈریس ہیک کئے جارہے ہیں۔ گوگل کی طرف سے بیجنگ کو سائبر حملوں کا ذمہ دار قرار دینے والے اس بیان پر چین نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے تحریری معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM