1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوگل نے مصر میں ’وائس ٹویٹس‘ متعارف کرا دیں

مصر کی داخلی صورت حال پر بین الاقوامی تشویش مسلسل زیادہ ہوتی جا رہی ہے جبکہ انٹرنیٹ تک رسائی کی معطلی کے پیش نظر سرچ انجن گوگل نے اب مصری عوام کو ٹیلی فون کے ذریعے ٹویٹر پیغامات ارسال کرنے کا منفرد موقع فراہم کر دیا ہے۔

default

اپوزیشن رہنما البرادعی قاہرہ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے

مصر میں گزشتہ کئی دنوں سے صدر حسنی مبارک کے تیس سالہ دور اقتدار کے خلاف عوامی احتجاج جاری ہے، جس میں اب تک محتاط اندازوں کے مطابق بھی قریب ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس پس منظر میں مصری اپوزیشن نے آج منگل کے روز قاہرہ میں دس لاکھ مظاہرین کی ایک بہت بڑی احتجاجی ریلی کے انعقاد کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جس میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ اور نوبل امن انعام یافتہ مصری اپوزیشن رہنما محمد البرادعی بھی شامل ہوں گے۔ حسنی مبارک کے خلاف اس بہت بڑے عوامی احتجاج کو ’ملین مارچ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

Symbolbild Verbot facebook twitter Flash-Galerie

مصر میں انٹرنیٹ پر پابندی کا مقصد زیادہ تر فیس بک اور ٹویٹر جیسی سوشل ویب سائٹس کو بلاک کرنا تھا

مصر میں حکومت نے گزشتہ کئی دنوں سے صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے عام صارفین کی انٹرنیٹ تک رسائی بھی تقریباﹰ پوری طرح معطل کر رکھی ہے۔ ان حالات میں صدر حسنی مبارک کے مخالفین اپنا احتجاج جاری تو رکھے ہوئے ہیں مگر انٹرنیٹ کے ذریعے ان کے بیرونی دنیا سے سیاسی اور سماجی رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں۔

مصری عوام کے آزادی رائے اور آزادی اظہار کے اسی حق کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ کی معروف انٹرنیٹ کمپنی گوگل نے اب اس افریقی ریاست میں ایک ایسی خصوصی ٹیلی فون سروس شروع کر دی ہے، جس کے ذریعے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹویٹر کے صارفین اپنا اکاؤنٹ استعمال تو کر سکتے ہیں مگر اس کے لیے انہیں کسی انٹرنیٹ رابطے کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔

Google

گوگل نے مصر میں ’وائس ٹویٹس‘ سروس ٹویٹر کے اشتراک عمل سے شروع کی

اس ٹیلی فون لائن کے ذریعے ٹویٹر کے مصری صارفین اپنی آواز میں ایسے پیغامات ریکارڈ کروا سکتے ہیں، جو ایک خود کار نظام کے ذریعے فوری طور پر ان کے ٹویٹر اکاؤنٹس پر آڈیو فائل کی صورت میں شائع کیے جا رہے ہیں۔ اس سہولت کا فائدہ یہ ہے کہ ٹویٹر کا کوئی بھی مصری صارف Speak to Twitter نامی اس سہولت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے Tweets کہلانے وہ پیغامات ریکارڈ کروا سکتا ہے، جنہیں Voice Tweets کا نام دیا جاتا ہے۔

گوگل کے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے اس کمپنی کی طرف سے اس کی کارپوریٹ بلاگنگ ویب سائٹ پر کہا گیا ہے، ’بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح ہم بھی مصر میں سامنے آنے والے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہماری سوچ یہ ہے کہ مصر کے عام شہریوں کی مدد کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘

گوگل نے اپنی یہ سروس ٹویٹر کے سافٹ ویئر انجینئرز کی مدد سے تیار کی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ مصری باشندوں کی آواز کو بیرونی دنیا تک پہنچایا جائے۔ ابتدائی طور پر ٹویٹر کے مصری صارفین کو ’وائس ٹویٹس‘ کے لیے تین مختلف ٹیلی فون لائنیں مہیا کی گئی ہیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس