1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

گوگل نے اپنا ’والیٹ‘ عام لوگوں کے لیے کھول دیا

معروف انٹرنیٹ کمپنی گوگل نے اپنے موبائل فون کو کریڈٹ کارڈ کی جگہ استعمال کرنے کی سہولت اب عام لوگوں کو بھی فراہم کر دی ہے۔ اس سہولت کو ’موبائل والیٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

default

گوگل والیٹ کے ذریعے آپ ریٹیل اسٹورز پر خریداری کے بعد محض اپنے موبائل فون کو کیش کارڈ پڑھنے والے ٹرمینل کے سامنے لہرا کر ادائیگی کر سکتے ہیں۔

گوگل والیٹ کی سہولت فی الحال امریکہ کے موبائل فون سروس پروائیڈر سپرنٹ کے گوگل نیکسس ایس 4-G اسمارٹ فون میں دستیاب ہے۔ تاہم یہ سہولت بہت جلد اینڈرائڈ سسٹم کے حامل اور NFC رکھنے والے دیگر اسمارٹ فونز میں بھی دستیاب ہوگی۔

گوگل کمپنی کے وائس پریزیڈنٹ پیمنٹس اسامہ بیڈیئر کے مطابق: ’’ گوگل والیٹ کی بدولت آپ اپنے موبائل فون کے نیئر فیلڈ کمیونیکشن کو استعمال کرتے ہوئے ادائیگی کر سکتے ہیں۔‘‘

گوگل والیٹ کی سہولت فی الحال سپرنٹ کے گوگل نیکسس ایس 4-G اسمارٹ فون میں دستیاب ہے

گوگل والیٹ کی سہولت فی الحال سپرنٹ کے گوگل نیکسس ایس 4-G اسمارٹ فون میں دستیاب ہے

سپرنٹ  کی طرف سے نیکسس ایس فور جی فون رکھنے والوں کو خود کار طریقے سے روانہ کردی گئی ہے۔ یہ ایپلی کیشن تیار کرنے والی کمپنی gdgt.com کے شریک بانی ریان بلاک کے مطابق :’’ آپ محض اس ایپلی کیشن کو اپنے موبائل پر انسٹال کریں اور اگلی مرتبہ جب دنیا بھر میں موجود تین لاکھ سے زائد پے پاس نامی ادائیگی کا نظام رکھنے والے کسی اسٹور پر جائیں تو ادائیگی کے لیے کریڈٹ کارڈ کی بجائے محض اپنا موبائل فون اسکینر کے سامنے لہرا دیں۔‘‘

اس نظام کا آزمائشی مرحلہ گوگل کی طرف سے سٹی بینک اور ماسٹر کارڈ کے تعاون سے رواں برس مئی میں شروع کیا گیا تھا۔ اس تجرباتی مرحلے میں سان فرانسسکو اور نیویارک میں مخصوص صارفین کے موبائل پر یہ سہولت مہیا کی گئی تھی۔

اس نظام کا آزمائشی مرحلہ گوگل کی طرف سے سٹی بینک اور ماسٹر کارڈ کے تعاون سے رواں برس مئی میں شروع کیا گیا تھا

اس نظام کا آزمائشی مرحلہ گوگل کی طرف سے سٹی بینک اور ماسٹر کارڈ کے تعاون سے رواں برس مئی میں شروع کیا گیا تھا

گوگل کی نائب صدر برائے کامرس Stephanie Tilenius نے اس نئے سسٹم کو اس وقت متعارف کراتے ہوئے کہا تھا: ’’ہم تجارت اور خرید و فروخت کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں جہاں ہم آن لائن اور آف لائن کو ایک ہی جگہ لے آئیں گے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب آپ کا فون  ہی دراصل آپ کا پرس بن جائے گا، آپ محض اسے چھوئیں، قیمت ادا کریں اور آگے بڑھ جائیں۔

اس مقصد کے لیے موبائل فون میں ایک خاص چِپ موجود ہونا ضروری ہے جسے ’نیئر فِیلڈ کیمیونیکیشن چِپ‘ NFC کہا جاتا ہے۔ اس چِپ کے ذریعے دو مختلف ڈیوائسز کے درمیان بہت کم فاصلے سے تھوڑی مقدار میں ڈیٹا ٹرانسفر کیا جاسکتا ہے، جیسےکریڈٹ کارڈ یا پے منٹ کارڈ  کی معلومات وغیرہ۔

توقع کی جا رہی ہے کہ رواں برس کے آخر تک یہ چِپ اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم رکھنے والے تمام اسمارٹ فونز کا ایک بنیادی حصہ بن جائے گی۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس