1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گوگل بُکس منصوبے کے خلاف مصنفین کا مقدمہ خارج

امریکی سپریم کورٹ نے انٹرنیٹ کمپنی گوگل کے صارفین کو کئی ملین کتابوں کی آن لائن دستیابی کے مجوزہ منصوبے کے خلاف وہ مقدمہ خارج کر دیا ہے، جس میں متعدد مصنفین نے الزام لگایا تھا کہ یہ منصوبہ کاپی رائٹ قوانین سے متصادم ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے پیر 18 اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اس مقدمے میں، جو مصنفین کے حقوق کے نمائندہ ایک گروپ نے دائر کیا تھا، دعویٰ کیا گیا تھا کہ گوگل کا ’گوگل بُکس‘ نامی منصوبہ کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم امریکی سپریم کورٹ نے آج پیر کے روز اس مقدمے کو مسترد کرتے ہوئے اس کی باقاعدہ سماعت کرنے سے ہی انکار کر دیا۔

گوگل، جو دنیا کی سب سے بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، کا ارادہ ہے کہ وہ کئی ملین کتابوں کو اسکین کر کے انہیں ایک آن لائن لائبریری میں دستیاب تصنیفات کے طور پر عام صارفین کو مہیا کرے۔

Google Books Scannen von Büchern

گوگل کا ارادہ ہے کہ اس منصوبے کے تحت کئی ملین کتابیں اسکین کر کے صارفین کو ایک آن لائن لائبریری کے طور پر مہیا کی جائیں

گوگل بُکس نامی اس منصوبے کے خلاف امریکی مصنفین کی نمائندہ تنظیم ’آتھرز گِلڈ‘ اور کئی دیگر ادیبوں نے انفرادی طور پر یہ موقف اپنایا تھا کہ گوگل کا یہ بہت بڑا منصوبہ انہیں ان کی جائز آمدنی سے غیر قانونی طور پر محروم کر دینے کا سبب بن رہا ہے۔

اس بارے میں انہی مصنفین نے ایک مقدمہ پہلے بھی دائر کیا تھا، جس پر اکتوبر 2015 میں نیو یارک میں سیکنڈ سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے اپنا فیصلہ گوگل کے حق میں سنایا تھا۔

اب اس مقدمے میں ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ سے رابطہ کیا گیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے کورٹ آف اپیلز کا فیصلہ برقرار رکھا اور گوگل کے خلاف مقدمے کی نئے سرے سے سماعت کی درخواست بھی رد کر دی۔

روئٹرز کے مطابق اس قانونی درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد اسے خارج کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے ججوں کے ایک تین رکنی پینل نے متفقہ طور پر کہا، ’’یہ کیس (کاپی رائٹ قوانین کے حوالے سے) منصفانہ استعمال کی حدود کے لیے ایک امتحان کی حیثیت رکھتا ہے تاہم عدالت کی رائے میں انٹرنیٹ کمپنی گوگل اس منصوبے کے سلسلے میں جو کچھ بھی کر رہی ہے، اسے مروجہ قوانین کے تحت بالآخر ایسا کرنے کی اجازت ہے۔‘‘

DW.COM