1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’’گوگل بُکس‘‘: لاکھوں کتابیں آن لائن

انٹرنیٹ پر دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن گوگل کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں پیش کرنے کے ایک منصوبے ’’گوگل بُکس‘‘ پر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اِس کے تحت کئی ملین کتابیں انٹرنیٹ پر پڑھی جا سکیں گی۔

default

امریکی کمپنی گوگل انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک بڑے سرچ انجن کے طور پر ہی شہرت نہیں رکھتی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اِس نے کئی دیگر شعبوں میں بھی نئی روایات قائم کرتے ہوئے بے پناہ کامیابی حاصل کی ہے اور مالی اعتبار سے بھی ایک انتہائی مستحکم کاروباری ادارے کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ گوگل کے تازہ ترین منصوبے کا تعلق ڈیجیٹل کتابوں سے ہے، جو لاکھوں کی تعداد میں انٹرنیٹ پر موجود ہوں گی۔

جہاں گوگل کا کہنا یہ ہے کہ کئی ملین کتابوں کو انٹرنیٹ پر پڑھنے کی سہولت سے قارئین، مصنفین اور ناشرین سبھی کو فائدہ ہو گا، وہاں کئی حلقے اِس منصوبے کی شدید مخالفت بھی کر رہے ہیں۔ خاص طور پر یہاں یورپ میں اس منصوبے کے حوالے سے کئی خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔

Google Books Flash-Galerie

کتابوں کی انٹرنیٹ پر دستیابی سے سب کو فائدہ ہوگا، گوگل

فرانسیسی شہر لِیَوں کی لائبریری کے ڈائریکٹر پاٹرِک بوزِین کو گذشتہ مہینوں کے دوران زبردست تنقید برداشت کرنا پڑی ہے۔ اُن کا قصور یہ ہے کہ اُنہوں نے گذشتہ برس گوگل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس میں گوگل کو اِس لائبریری کی پندرہویں صدی سے لے کر اُنیسویں صدی تک کی پانچ لاکھ کتابیں اسکین کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

تاہم گوگل لائبریری کے اِس منصوبے پر کئی حلقوں کو اعتراض ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ تو گویا اپنا ثقافتی ورثہ بیچ ڈالنے کے مترادف ہے اور یہ بھی کہ اِس طرح گوگل کو اِس شعبے میں ایک بالا دست حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ لیکن لِیَوں لائبریری کے ڈائریکٹر بوزِین مطمئن ہیں کیونکہ اُنہوں نے اِس معاہدے میں یہ شرط رکھی ہے کہ گوگل کا اسکین کیا گیا تمام مواد وہ بغیر کوئی معاوضہ ادا کئے اپنی لائبریری کی وَیب سائیٹ پر بھی مہیا کر سکیں گے۔ اور یہ بہت بڑی سہولت ہے کیونکہ اگر لائبریری کو خود اپنی کتابیں اسکین کرنا پڑیں تو ایک ایک صفحے پر بارہ سے لے کر اَسی سینٹ تک کی لاگت آئے گی، جسے گوگل جیسا مستحکم ادارہ تو برداشت کر سکتا ہے لیکن ایک عام لائبریری ہرگز نہیں۔

آٹھ اور نو ستمبر کو برسلز میں میڈیا کے امور سے متعلق یورپی کمشنر وِویانے رے ڈِنگ نے گوگل کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ مصنفین اور ناشرین کے ساتھ بھی ملاقاتیں کی اور گوگل کے اِس منصوبے کی حمایت کی۔ زیادہ سے زیادہ کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں سامنے لانے کی حامی رے ڈِنگ کا کہنا ہے:’’اب تک لائبریریوں میں موجود کتابوں کا محض ایک فیصد ڈیجیٹل شکل میں دستیاب بنایا جا سکا ہے۔ باقی کی کتابیں کون ڈیجیٹلائز کرے گا؟ اِس پر بہت پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ یورپ کے لئے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ حکومتیں اتنے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتیں۔‘‘

Flaggen vor dem EU Parlament in Brüssel

یورپی پارلیمان کی رکن ہیلگا ٹروپل قدیم کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں سامنے لانے کی حامی ہیں

یورپی پارلیمان کی رکن ہیلگا ٹروپل بھی، جو جرمنی کی گرین پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں، قدیم کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں سامنے لانے کی حامی ہیں تاکہ اُن تک زیادہ سے زیادہ قارئین کی رسائی ہو سکے۔ نئی نئی شائع ہونے والی کتابوں کے ڈیجیٹل ایڈیشن انٹرنیٹ پر جاری کرنے کے حوالے سے وہ کہتی ہیں:’’ڈیجیٹل شکل میں صرف وہ کتابیں پیش کی جانی چاہییں، جہاں واقعی کاپی رائٹ یعنی جملہ حقوق کا خیال رکھا گیا ہو۔ ظاہر ہے، ایسے میں باقاعدہ معاہدے طے کرنے کی ضرورت پڑے گی لیکن میرے خیال میں یہ سب تفصیلات طے ہو سکتی ہیں۔‘‘

ایسی کئی تفصیلات امریکی مصنفین نے گوگل کے ساتھ بہرحال طے کر لی ہیں، گو آنے والے دنوں میں ابھی وہاں بھی کافی کچھ طے ہونا ابھی باقی ہے۔ تاہم امریکی ادیب جیمز گلائیک کی نظر میں یورپ میں ظاہر کئے جانے والے شکوک و شبہات بہرحال ناقابلِ فہم ہیں:’’اِن ڈیجیٹل کتابوں سے ہونے والی آمدنی اُنہی کو ملے گی، جن کے پاس اِن کتابوں کے حقوق ہوں گے۔ گوگل کو تو محض آمدنی کا ایک مخصوص حصہ ہی ملے گا، مثلاً جب کتابوں کے متن کے ساتھ اشتہارات وغیرہ بھی دیکھے جا سکیں گے۔‘‘

خود گوگل کی بھی پوری کوشش ہے کہ تمام متعلقہ حلقوں کے خدشات دور کئے جائیں تاکہ ’’گوگل بُکس‘‘ نامی اِس منصوبے کو جلد از جلد عملی شکل دی جا سکے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM