1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

گوگل آن لائن لائبریری پر چین کا الزام

چینی کاپی رائٹس گروپ کے عہدیداروں نے انٹرنیٹ کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل پر شدید الزامات لگائے ہیں۔ گروپ کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی آن لائن لائبریری کیلئے تقریبا بیس ہزار چینی کتابوں کو بغیر اجازت سکین کیا ہے۔

default

چائنہ رٹن ورکس کاپی رائٹس سوسائٹی نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا " گوگل آن لائن لائبریری کا ڈیٹا ظاہر کرتاہے کہ ہزاروں چینی کتابیں بغیر معاوضہ ادا کیے سکین کر لی گئی ہیں"

تفصیلات کے مطابق گوگل اپنی آن لائن لائبریری کیلئے لاکھوں کی تعداد میں کتابوں کو سکین کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کام کو تکمیل تک پہچانے کیلئے گوگل کاپی رائٹس کے انڑنیشنل قوانین کا احترام نہیں کر رہا۔

چینی کاپی رائٹس سوسائٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر 'ژانگ ہونگبو' کا کہنا تھا کہ سوسائٹی کو چینی حکومت کی طرف سے احکامات ملے ہیں کہ کاپی رائٹس کے حوالے سے جتنی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے اس کا اندازہ لگایا جائے"

Google Books Text in einem PC-Bildschirm

کاپی رائٹس کے معاملے پرحالیہ چینی تنقید اورالزامات نے گوگل کو ایک بارپھر مشکل میں ڈال دیا ہے۔

ژانگ نے گوگل کی اس کارروائی کے حوالے بات کرتے ہوئے کہا کہ 570 کے قریب مصنفین کی کتب کو سکین کیا گیا ہے۔ ان میں سے کسی سے بھی مصنف سے گوگل نے رابطہ نہیں۔ اور نہ ہی انہیں معاوضے کی ادائیگی کی گئی ہے۔

خبررساں ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ گوگل کے چائنہ ڈیسک پر کام کرنے والے عملے سے ابھی رابطہ نہیں ہوسکا۔ واضح رہے کہ گوگل کواس پراجیکٹ کی تکمیل کیلئے دنیا بھر میں کاپی رائٹس کی خلاف ورزی پر اس قسم کی تنقید کا سامنا ہے۔

یادرہے کہ ایسی ہی قانون شکنی پر 2005 میں امریکہ کے کچھ مصنفین اورپبلشرز نے گوگل کے خلاف مقدمہ بھی دائرکیا تھا۔ جس کے نتیجے میں گوگل نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ معاملے کے حل کیلئے 125 ملین ڈالرز ادا کرے گا۔ جبکہ حالیہ چینی تنقید اورالزامات نے گوگل کو ایک بارپھر مشکل میں ڈال دیا ہے۔

ان تمام پہلووں کے باوجود انڑنیٹ کی دنیا میں گوگل انجن سب سے زیادہ استعمال ہو رہا ہے ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں کا رابطہ گوگل سے بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ: عبدالرؤف انجم

ادارت: امجد علی