1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوڈیل پر حملہ سیاسی عمل سبوتاژ کرنے کی کوشش، ستار

الطاف حسین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ عبدالرشید گوڈیل کی صحت یابی کے لیے دعا کریں۔ متحدہ کے پارلیمانی لیڈر عبدالرشید گوڈیل منگل کے دن دہشت گردوں کے حملے میں شدید زخمی ہوئے ہیں جبکہ ان کا ڈرائیور ہلاک ہو گیا ہے۔

پولیس چیف مشتاق مہر نے جائے وقوعہ کے معائنہ کے بعد ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عبدالرشید گوڈیل پر حملہ اس وقت کیا گیا ہے، جب رشید گوڈیل اپنی اہلیہ کے ہمراہ شہید ملت روڈ پر واقع ایک اسٹور سے خریداری کے بعد گھر جا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار دہشت گردوں نے تعاقب کے بعد انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

عبدالرشید گوڈیل پر حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان متحد قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو پارلیمان سے دیے گئے استعفے واپس لینے کے لیے رضامند کرنے ایم کیو ایم مرکز نائن زیرو پہنچے تھے اور ایم کیو ایم کی جانب سے ان کا استقبال کیا جا رہا تھا۔ مگر حملے کی اطلاع ملتے ہی مذاکرات کا ماحول بھی رنجیدہ ہو گیا۔

میڈیا سے بات چیت گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے وقت ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی پر حملہ سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے حادثے کے باوجود ایم کیو ایم کا رویہ مثبت ہے۔ خلاف توقع ایم کیو ایم نے اتنے بڑے واقعے پر انتہائی بردباری کا ثبوت دیا اور نہ شہر بند ہوا اور نہ ہی ہڑتال کی کال دی گئی۔

مشتاق مہر کہتے ہیں جائے وقوعہ سے گولیوں کے 9 خول ملے ہیں اور اطراف میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب ہیں اور ملزمان کا جلد سراغ لگا لیا جائے گا۔ عبدالرشید گوڈیل پر حملے سے قبل بھی گزشتہ چند روز کے دوران دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے ہیں، جن سے دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے دوبارہ سرگرم ہونے کا تاثر ملتا ہے۔

ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما حیدرعباس رضوی نے کہا کہ رشید گوڈیل کی حالت بدستور تشویشناک ہے اور ڈاکٹروں نے آئندہ 48 گھنٹے انتہائی حساس قرار دیے ہیں۔ حیدرعباس رضوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ حملے کا وقت بہت اہم ہے۔ عین اس وقت عبدالرشید گوڈیل کو نشانہ بنایا گیا ہے، جب مذاکرات ہونے جا رہے تھے۔ اس واقعے کی مکمل تفتیش ہونا چاہیے۔

Farooq Sattar

فاروق ستار کے بقول مذاکرات کے وقت ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی پر حملہ سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے

آج صبح ایک حساس ادارے نے رینجرز کے ہمراہ گلشن اقبال میں واقع ایک اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارا، جہاں دہشت گرد اور رینجرز کا مقابلہ ہوا۔ دو دہشت گرد اور حساس ادارے کا ایک افسر مقابلے میں مارا گیا۔ جبکہ آج صبح گلشن اقبال میں ہی مسلح افراد نے ایک بینک سے 80 لاکھ روپے بھی لوٹ لیے۔

مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم کا یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ عبدالرشید گوڈیل پر حملے کو سازش کے تناظر میں بھی دیکھنا جانا چاہیے اور یہ بھی دیکھا جائے کہ جب استعفوں کے معاملے پر انتہائی اہم مذاکرات ہو رہے تھے اس وقت قومی اسمبلی میں پارٹی کا ڈپٹی پارلیمانی لیڈر گھریلو معاملات میں مصروف تھا۔