1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گولی سے تیار کیے گئے قلم سے امن معاہدے پر دستخط

نصف صدی سے زائد عرصے تک کولمبیا کی حکومت اور فارک باغیوں کے مابین جاری رہنے والا مسلح تنازعہ ایک امن معاہدے کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔ چار برسوں کی بات چیت کے بعد آخر کار فریقین نے اس معاہدے پر دستخط کر دیے۔

کولمبیا کے صدر خوآن مانوئیل سانتوس اور فارک کمانڈر رودریگو لوندونیو عرف ’ٹیموشینکو‘ نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر کارٹاجینا میں منعقد کی جانے والی تقریب میں تقریباً ڈھائی ہزار غیر ملکی مندوبین اور سفارتکاروں نے شرکت کی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون  اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو بھی خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور وہ بھی  وہاں موجود تھے۔297 صفحات پر مبنی اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے جس قلم کا استعمال کیا گیا، اسے ایک گولی سے بنایا گیا تھا۔

’ٹیموشینکو‘ نے سانتوس کو ایک باہمت ساتھی قرار دیا اور کہا:’’میں ان تمام افراد سے معافی چاہتا ہوں، جنہیں ہماری وجہ سے تکلیف پہنچی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ اب ہم ہتھیاروں کے بغیر سیاست کریں گے۔‘‘ اس پر کولمبیا کے صدر سانتوس نے کہا، ’’ملکی سربراہ کے طور پر میں آپ کو جمہوریت میں خوش آمدید کہتا ہوں۔‘‘ اس موقع پر انہوں نے تین مرتبہ دہرایا:’’اب مزید کوئی جنگ نہیں۔‘‘

 فارک باغیوں نے 1960ء  کی دہائی کے وسط میں اپنی مسلح تحریک کا آغاز کیا تھا۔ ان برسوں کے دوران کی جانے والی کارروائیوں اور جوابی حملوں میں دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ اسّی لاکھ  افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اس امن معاہدے کی توثیق کے لیے اتوار کو کولمبیا میں ایک ریفرنڈم بھی کروایا جا رہا ہے۔ اگر توقعات کے مطابق کولمبیا کی عوام نے بھی اس معاہدے کے حق میں فیصلہ دے دیا تو سات ہزار فارک جنگجو اگلے چھ مہینوں کے دوران اقوام متحدہ کی جانب سے منتخب کیے جانے والے مبصرین کے سامنے بتدریج اپنے ہتھیار پھینک دیں گے۔

اس تقریب میں شریک زیادہ تر افراد سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ یہ تقریب نوّے منٹ تک جاری رہی۔ ماہرین کے مطابق اس امن معاہدے کا سب سے مشکل مرحلہ مفاہمت کا عمل ہو گا۔ اس دوران باغیوں اور حکومتی اہلکاروں کو جیل جانے سے بچنے کے لیے اِن باون سالوں کے دوران کیے گئے جنگی جرائم کو قبول کرنا ہو گا۔ اس معاہدے کے مطابق فریقین نے دور دراز کے علاقوں کی ترقی اور کوکین کی پیداوار کے خلاف مل کر اقدامات کرنے کی بھی حامی بھری ہے۔ اس تنازعے کے وجہ سے کولمبیا کے متعدد دیہی علاقوں میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو سکا ہے۔