1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گولڈ اسٹون رپورٹ اور اسرائیل کا ردعمل

غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم کی تحقیقاتی رپورٹ پر انسانی حقوق کی کونسل میں بحث ہوئی۔ اسرائیل اس رپورٹ کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

default

غزہ جنگ ستائیس دسمبر2007ء سے اٹھارہ جنوری 2008ء تک جاری رہی۔ اس دوران فریقین نے ایک دوسرے پر جنگی جرائم کے الزامات بھی عائد کئے۔ ان الزمات کی تحقیق کے لئے اقوام متحدہ نےایک کمیشن قائم کیا، جس کے سربراہ جنوبی افریقہ کے ایک سابق جج رچرڈ گولڈ اسٹون ہیں۔ کمیشن کی رپورٹ میں اسرائیل اور حماس دونوں پر جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے مسترد کی جانے والی اس رپورٹ پرآج اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن میں بحث ہو رہی ہے۔

گزشتہ روزعالمی سلامتی کونسل میں مشرق وسطٰی تنازعے پر بحث ہوئی۔ اس دوران اسرائیل اور فلسطین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور گولڈ اسٹون رپورٹ کا بھی ذکر سنا گیا۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کی سفارت کار گیبریئیلا شالیو کے مطابق گولڈ اسٹون رپورٹ جانبدارانہ ہے، اس لئے غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوا م متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اس پر بحث کرنا ایک یکطرفہ فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا یہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ گولڈ اسٹون رپورٹ یکطرفہ اور متعصبانہ ہے۔ اسی لئے اسرائیل اسے مسترد کرتا ہے۔ یہ رپورٹ دہشت گردی کی تائید کرتی ہے اور اس کو جائز قرار دیتی ہے۔

شالیو کے مطابق اس رپورٹ کا مقصد جمہوری ممالک کو اس بات سے روکنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو دہشت گردوں سے بچا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں امن عمل کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ سلامتی کونسل میں فلسطینی انتظامیہ کے نمائندے ریاد منصور نے بھی گولڈ اسٹون رپورٹ پراپنا موقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب احتساب کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ یہ ایک طویل عمل ہو گا۔ سب چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہو اور مجرم عدالت کٹہرے میں ہوں۔

UN Gaza Israel Richard Goldstone mit Gaza-Bericht

رچرڈ گولڈ اسٹون رپورٹ پیش کرتے ہوئے

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے اب گولڈ اسٹون رپورٹ کے حوالے سے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔ دو ہفتے قبل تک ان کا کہنا تھا کہ حقوقِ انسانی کمیشن میں اس رپورٹ کو پیش کئے جانے کی تاریخ ملتوی کر کے اگلے برس مارچ کر دی جائے۔ اس بیان پراُن کی سیاسی حریف حماس کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے رفقاء نے بھی تعجب کا اظہار کیا تھا۔ تا ہم اب عباس اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس میں پیش کئے جانے کی حمایت کر رہے ہیں۔

UN Menschenrechtsrat in Genf

جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کی عمارت

امکان ظاہرکیا جا رہا ہے کہ حقوقِ انسانی کونسل جنگی جرائم کے ارتکاب کے حوالے سے اسرائیل اور حماس کو تنقید کا نشانہ بنائے گی۔ اسرائیلی سفارت کار شالیو کے مطابق امریکہ اس مسئلے میں اسرائیل کے ساتھ ہے۔ ان کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے وعدہ کیا کہ اگر بات اقوام متحدہ میں رائے شماری تک آئی تو امریکہ اپنا ویٹوکا حق استعمال کرے گا۔

اسرائیلی فوج کے ایک ریڈیوکے مطابق وزرات دفاع کے ایک نمائندے نے دھمکی دی ہے کہ اگرگولڈن اسٹون رپورٹ سلامتی کونسل منتقل کی گئی تو فلسطینی انتظامیہ کی قیادت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔