1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

گولڈن گلوب ایوارڈز، میرل اسٹریپ ٹرمپ پر برس پڑیں

اتوار کی شب فلمی دنیا کے اہم ایوارڈ گولڈن گلوب کی رنگا رنگ تقریب لاس اینجلس میں منعقد ہوئی، جس میں میوزیکل فلم ’لا لا لینڈ‘ نے اکٹھے سات گولڈن گلوب جیت کر آسکر ایوارڈ کے لیے بھی اپنا راستہ ہم وار کر لیا۔

ڈیمیَن شیزل کی ہالی وڈ کے میوزیکلز کے سنہرے دور کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ’لا لا لینڈ‘ کو سات مختلف کیٹیگریز کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور اس فلم نے ان تمام سات شعبوں میں گولڈن گلوب اعزاز حاصل کیا۔ اس بھرپور کامیابی کی وجہ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس برس کے آسکر ایوارڈز کے لیے بھی یہ فلم نہایت مضبوط امیدوار ہے۔ آسکر ایوارڈز کی تقریبِ تقسیم اگلے ماہ منعقد ہو گی۔

’لا لا لینڈ‘ میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ حاصل کرنے والی ایما اسٹون نے کہا، ’یہ خواب دیکھنے والوں کی فلم ہے۔‘‘

اس فلم میں میا کا کردار ادا کرنے والی اسٹون نے مزید کہا، ’’میرے خیال میں امید اور تخلیق اس دنیا میں اہم ترین چیزیں ہیں اور یہ فلم بھی یہ کہتی ہے۔

ان کے معاون اداکار ریان گوزلنگ، جنہوں نے اس فلم میں ایک پیانو نواز سیباستین کا کردار ادا کیا ہے، کو ’بیسٹ ایکٹر آنر‘ کا ایوارڈ دیا گیا، جب کہ فلم کے ہدایات کار شیزل کو بہترین ہدایات کاری اور اسکرین پلے کے اعزازات دیے گئے۔ اس فلم کو بہترین پسِ پردہ موسیقی اور بہترین گیت ’سٹی آف اسٹارز‘ کے لیے بھی گولڈن گلوب اعزازات سے نوازا گیا۔

Film La la Land (picture-alliance/PictureLux/The Hollywood Archive)

لا لا لینڈ نے اکھٹے سات گولڈن گلوب جیت لیے

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی فلم کو اتنے زیادہ گولڈن گلوب ملے ہیں۔ اس سے قبل سن 1975 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ون فلیو اوور دا کوکوز نیسٹ‘ اور سن 1978ء میں پیش کی جانے والی فلم ’مڈ نائٹ ایکسپریس‘ کو چھ چھ ایوارڈز ملے تھے۔

فلمی دنیا کے معتبر ترین اعزازات میں شامل گولڈن گلوب کی چکاچوند روشنیوں سے منور اس بار کی تقریب کی خاص بات وہ سیاسی تقاریر بھی تھیں، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بہ طور امریکی صدر منتخب ہونے پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔

تقریب میں شریک فلمی شخصیات نے امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی اور پھر نسلی بنیادوں پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے موضوع پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ گولڈن گلوب کی تقریب میں اعزازات حاصل کرنے والے متعدد ستاروں نے کہا کہ ’برداشت اور یک جہتی‘ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر سب سے زیادہ جذباتی تقریر اداکارہ میرل اسٹریپ کی تھی، جنہوں نے ’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ حاصل کرتے ہوئے کہا کہ ہالی وڈ کی فلمی صنعت غیرملکیوں اور باہر سے آنے والے افراد کی وجہ سے مضبوط ہے۔ ٹرمپ کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا، ’’اگر آپ ان سب کو باہر نکال دیں گے، تو آپ کے پاس فٹ بال اور مارشل آرٹ دیکھنے کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا اور یہ فن نہیں ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا، ’’تذلیل سے تذلیل جنم لیتی ہے اور تشدد تشدد کو پیدا کرتا ہے۔‘‘