1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

گولڈن پام نہ سہی، مگر جرمن سنیما کے لیے بڑا سال

کن فلم فیسٹیول میں جیوری نے ناقدین کی رائے کے برعکس کین لوآخ کی فلم کے لیے گولڈن پام ایوارڈ کا اعلان کر دیا، ڈی ڈبلیو کے تجزیہ کار ژوخِم کیورٹن کے مطابق جرمن ہدایت کارہ مارین آڈے بھی اس انعام کی ایک اہم امیدوار تھیں۔

مختلف بین الاقوامی جائزوں میں ناقدین کی واضح فیورٹ جرمن ہدایت کاروں مارین آڈے ہی تھیں۔ انہیں ان کی فلم ’’ایرڈ مَن‘‘ پر جانب سے پزیرائی ملی ہے اور اسی تناظر میں کہا جا رہا تھا کہ غالباﹰ وہ کن فلم فیسٹیول کا نہایت معتبر گولڈن پام ایوارڈ جیت جائیں گی۔ خوبصورت بات یہ تھی کہ اس فلم میلے میں ایک مزاحیہ جرمن فلم اہم ترین ایوارڈ کے لیے نمایاں امیدوار تھی۔

دنیا بھر میں اس فلم کے حوالے سے شائع ہونے والے مضامین میں اس نظم کی خوب خوب تعریف کی گئی۔ برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نے اسے ’’ایک چبھتا ہوا مختصر کرشمہ‘ قرار دیا، جب کہ امریکی اخبار ’دی ہالی وڈ رپورٹر‘ نے لکھا، ’’162 منٹ کی جرمن کامیڈی جو اب تک کی بہترین مزاحیہ فلم ہے۔‘‘

Cannes Filmfestspiele Ken Loach

گولڈن پام کین لوآخ کے حصے میں آیا

ہسپانوی اور فرانسیسی فلم ناقدین نے بھی مشترکہ طور پر نوجوان جرمن ہدایت کارہ کی اس فلم کو کامیڈی اور اس میں چھپے جملوں کی سنجیدہ کاٹ کا خوب اعتراف کیا۔

اس فلم کے پریمیئر کے موقع پر بھی حاضرین نے کھڑے ہو کر کافی دیر تک تالیاں بجا کر اس فلم کو سراہا اور ہدایت کارہ کی تعریف کی۔

کن فلم فیسٹیول کی تقریبِ تقسیمِ انعامات سے کچھ دیر قبل تک یہ بات بار بار سننے کو مل رہی تھی کہ ممکنہ طور پر یہی جرمن فلم اس اہم ایوارڈ کی حق دار ہے، تاہم ان تمام تر تعریفوں کے باوجود کن فلم فیسٹیول میں اس فلم کے حصے میں کسی بھی شعبے میں کوئی ایوارڈ نہ آیا۔ جیوری کی جانب سے گولڈن پام کا ایوارڈ کین لوآخ کے نام کرنے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ چاہے ناقدین کچھ بھی کہیں تاہم کن فلم فیسٹیول کی جیوری ہر رائے سے الگ ہو کر اپنا آزادانہ فیصلہ کرتی ہے۔