1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گولڈاسٹون رپورٹ پر فیصلے میں تاخیر، یروشلم میں مسلمانوں کا مظاہرہ

یروشلم میں پیر کے روز سینکڑوں فلسطینی مسلمانوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی گولڈ اسٹون رپورٹ پر ووٹنگ اور فیصلے میں تاخیر کے خلاف مظاہرہ کیا۔

default

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ مظاہرین انسانی حقوق کی کونسل کی جانب سے غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب کے حوالے سے فیصلے میں تاخیر کے خلاف زبرست نعرے بازی کر رہے تھے۔ جنیوا میں انسانی حقوق کی کونسل کے روبرو غزہ جنگ کی تفتیشی رپورٹ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے جج رچرڈ گولڈ سٹون نے گزشتہ ہفتے پیش کی تھی۔ اس رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیل اور حماس دونوں نے جنگی جرائم کا ارکاب کیا۔

Gaza Stadt Explosion Israel Militär

غزہ جنگ میں تیرہ سو سے زائد شہری ہلاکتیں ہوئیں

گولڈ اسٹون نے کہا: ’’جنگی جرائم کا محاسبہ نہ ہونا اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب لوگوں میں اشتعال کا باعث ہے۔ عدم انصام کی یہ فضا قیام امن کی کسی امید کو بارآور نہیں ہونے دے گی۔ اس سے وہاں تشدد اور متنازعے میں مزید اضافہ ہوگا۔‘‘

مغربی کنارے کے دارالحکومت راملہ میں بھی ہزاروں افراد نے کونسل کے فیصلے میں تاخیر پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے کتبے اور بینر اٹھا رکھے تھے، جن پر تحریر تھا ’’انسانی خون کی تضحیک افسوس ناک ہے اور اس سے لوگوں کو دکھ پہنچا ہے۔‘‘ مظاہرے میں شریک ایک اور شخص نے پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا، جس پر گزشتہ ہفتے پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ کے حوالے سے تحریر تھا کہ ’’ فیصلے میں تاخیر اسرائیلی وزیراعظم کو چھوٹ دینے کے مترادف ہے۔‘‘

حقوقِ انسانی کونسل کی جانب سے اسرائیل پر غزہ حملے کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام کو فلسطینی میڈیا میں بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے اور رپورٹ پر فیصلے میں تاخیرکو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم دوسری جانب اعتدال پسند فلسطینی ان مظاہروں سے دور بھی ہیں۔اسلامک نیشنل گروپ کے سربراہ ابراہیم ضرضُر نے مظاہرین سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: ’’میں تمام اہل ایمان سے، تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں۔ وہ جو مسجد اقصیٰ میں عبادت کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ خود کو اس قسم کی سرگرمیوں سے دور رکھیں۔ پولیس کسی قسم کے تصادم میں دلچسپی نہیں رکھتی۔‘‘

غزہ پٹی میں عسکریت پسند تنظیم حماس کے زیرانتظام چلنے والی حکومت کے وزیراعظم اسماعیل ہانیہ نے کونسل کے فیصلے میں تاخیر کا الزام محمود عباس اور الفتح تنظیم پر عائد کیا ہے۔

حماس رہنما اسماعیل ہانیہ کے مطابق اس فیصلے میں تاخیر کے بعد قاہرہ یونیٹی حکومت معاہدے پر بھی سوالیہ نشانات لگ گئے ہیں۔ ’’محمود عباس نے اپنے حکم سے اس رپورٹ پر ووٹنگ اور عمل درآمد رکوایا ہے۔‘‘

اسماعیل ہانیہ نے کہا کہ ایسی صورت حال میں کس طرح حماس اور فتح ایک میز پر بیٹھ کر کسی معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔ پچھلے ہفتے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں پیش کی جانے والی گولڈ سٹون رپورٹ میں مشورہ دیا گیا تھا کہ اسرائیلی رہنماؤں اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے خلاف بین الاقوامی عدالت برائے انصاف میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے۔ اسرائیل نے اس رپورٹ کو سیاسی مہم قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

گزشتہ برس دسمبر میں شروع ہونے والی غزہ جنگ تین ہفتے تک جاری رہی تھی اور اس دوران تقریبا چودہ سو فلسطینی اور تیرہ اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: امجد علی