1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’گولن تحریک کا خاتمہ مغربی دنیا کے مفاد میں نہیں‘، تبصرہ

ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد سے صدر رجب طیب ایردوآن نے فتح اللہ گولن کی تحریک کو تعاقب کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ جرمن اخبار ’فرانکفرٹر الگمائنے‘ کے رائنر ہیرمن کے مطابق اس تحریک کا خاتمہ مغربی دنیا کے مفاد میں نہیں ہے۔

Bildkombo Recep Tayyip Erdogan und Fethullah Gülen

ترک صدر رجب طیب ایردوآن (بائیں) اور مبلغ فتح اللہ گولن (دائیں)، جو ’کل تک ایک دوسرے کے ساتھی تھے لیکن آج کٹر دشمن ہیں‘

کل تک دونوں ایک دوسرے کے ساتھی تھے، آج کٹر دشمن ہیں۔ ترک سیاستدان رجب طیب ایردوآن اور مبلغ فتح اللہ گولن کی مشترکہ کوششوں سے ہی اُس ترک مقتدر طبقے کو عروج ملا، جو 2002ء سے ترکی میں برسرِاقتدار ہے۔

ابتدا میں گولن نے ایک اعتدال پسندانہ اسلام اپنانے اور جدید تعلیم حاصل کرنے کے مطالبے کے ساتھ اناطولیہ کی بیداری کی تحریک شروع کی۔ ترک عوام گولن کی اس ڈھیلی ڈھالی تحریک سے، جس میں غیر مسلموں کے ساتھ مکالمت کو مرکزی اہمیت حاصل تھی، متاثر ہوئے۔ ایسا کرتے ہوئے اُنہوں نے کسی تنظیم یا گروپ کی رکنیت اختیار نہیں کی، جس پر اُنہیں بعد میں یہ الزام بھی سننا پڑا کہ اُن کا ڈھانچہ غیر شفاف ہے۔

اس تحریک کے ثمرات سیاسی قائد ایردوآن کو ملے، جو اناطولیہ کے تب تک نظر انداز ہونے والے طبقات کو انقرہ میں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔ ابتدا میں ایردوآن گولن تحریک کے تعلیم یافتہ مقتدر طبقوں پر انحصار کرتے رہے اور اُنہیں ملکی بیوروکریسی میں لے آئے۔ پھر اُنہوں نے ایک ایک کر کے اپنے سیاسی حریفوں کو راستے سے ہٹانا شروع کر دیا۔ اب آخر میں گولن اور اُن کی تحریک کی باری ہے، جو ایردوآن کی ماتحتی قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ اُلٹا یہ تحریک اصلاحات متعارف کروانے کے جوش میں کمی اور ایردوآن کے آمرانہ طرزِ اقتدار کو ہدفِ تنقید بنا رہی ہے۔

جب گولن کے حامی وکلائے استغاثہ نے 2013ء میں بدعنوانی کے ایسے اسکینڈل طشت از بام کیے، جن کی براہِ راست زَد ایردوآن پر پڑتی تھی، تب ایردوآن نے اس تحریک کے خلاف کھلا اعلانِ جنگ کر دیا۔ پندرہ جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد سے ایردوآن اس تحریک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے در پے ہیں۔ خود گولن کا اس بغاوت سے کوئی تعلق نہیں، یہ کام پرانے مقتدر طبقے کے غیر مطمئن جرنیلوں اور گولن سے قربت رکھنے والے فوجی افسران پر مشتمل ایک اتحاد کا تھا۔

Türkei Selfie vor einem Panzer auf der Bosporus-Brücke

’بغاوت پرانے مقتدر طبقے کے غیر مطمئن جرنیلوں اور گولن سے قربت رکھنے والے فوجی افسران پر مشتمل ایک ڈھیلے ڈھالے اتحاد نے کی، گولن کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا‘

ترک حکومت گولن تحریک کے زیر اہتمام دنیا بھر میں چلنے والے ایک ہزار سے زیادہ سیکنڈری اسکولوں اور چند ایک یونیورسٹیوں کی بندش کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس مطالبے کو ماننے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ چند ایک ملکوں میں گولن کے اسکولوں سے پیدا شُدہ خلاء کو سعودی اسکول پُر کریں گے۔ ایردوآن کے حامیوں کے برعکس گولن کے پیروکار جہاں بھی ہیں، وہاں کے معاشروں میں ضَم ہیں اور مغربی جمہوریت اور کثرتِ رائے پر مبنی معاشرے سے میل کھاتے ایک معتدل اسلام کے داعی ہیں۔ اس تحریک کا خاتمہ ہمارے مفاد میں نہیں ہو سکتا۔