گولن تحریک سے وابستگی کے شبے میں جرمن خاتون گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 06.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گولن تحریک سے وابستگی کے شبے میں جرمن خاتون گرفتار

ترک فورسز نے مبینہ طور پر گولن تحریک سے وابستگی رکھنے کے شبے میں ایک جرمن خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترک صدر طیب ایردوآن نے گزشتہ ماہ کی ناکام بغاوت کا الزام امریکا میں مقیم جلاوطن ترک مبلغ فتح اللہ گولن پر عائد کیا ہے۔

Türkei Polizei in Istanbul

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے

جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق جرمن خاتون کی گرفتاری پندرہ جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے تناظر میں ہونے والی گرفتاریوں کے سلسلے کا حصہ ہے۔ ان جرمن خاتون کی گرفتاری چند روز قبل عمل میں لائی گئی تھی۔ جرمن دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔

جرمن اخبار ’زوڈ ڈوئچے سائٹنُگ ‘ اور جرمن نشریاتی اداروں ’ این ڈی آر ‘ اور ’ ڈبلیو ڈی آر ‘ کے مطابق اس خاتون پر اسلامی مبلغ فتح اللہ گولن سے تعلق رکھنے کا شبہ ہے، جو آج کل امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ دوسری جانب گولن نے اس بغاوت سے اپنی لا تعلقی ظاہر کی ہے۔ اس بغاوت کے بعد ہزاروں فوجی افسروں کو یا تو گرفتار اور یا پھر ملازمتوں سے برخاست کر دیا گیا تھا۔ انقرہ میں پندرہ جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک مبینہ طور پرگولن کے حمایتی سمجھے جانے والے 60 ہزار سے زیادہ افراد کو سرکاری اور نجی ملازمتوں سے برطرف یا معطل کیا جا چکا ہے۔ ان میں فوج، میڈیا، عدلیہ اور سول سروس کے لوگ شامل ہیں۔

Türkei Erdoganunterstützer in Istanbul gegen Fethullah Gülen

فتح اللہ گولن کے حمایتیوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں اب تک ساٹھ ہزار سے زائد افراد کو ملازمتوں سے بر طرف کیا جا چکا ہے

ترک حکام کا کہنا ہے کہ جرمن خاتون کو ان کی رہائش گاہ سے ایسی کتابیں ملنے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے جن سے ان کے گولن تحریک سے وابستہ ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔ یہ خاتون بغاوت کے بعد کیے جانے والے کریک ڈاون سے متاثر ہونے والی پہلی جرمن شہری ہیں۔ جرمن دفتر خارجہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ انقرہ میں جرمن سفارت خانہ ان خاتون سے رابطہ کرنے کی کئی روز سے کوشش کر رہا ہے لیکن اسے ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ان کی شناخت کے حوالے سے کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ وہ ترکی میں کیوں مقیم تھیں۔ آیا وہ وہاں مستقل طور پر قیام پذیر تھیں اور یہ کہ ان کے پاس جرمن شہریت کے ساتھ ساتھ ترکی شہریت بھی تھی یا نہیں۔

DW.COM