1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گورکھا گروپ کے ساتھ بھارتی حکومت کا معاہدہ

بھارت کے شمال مشرقی علاقے دارجیلنگ میں علیحدگی پسندی کی تحریک کے خاتمے کے سلسلے میں نئی دہلی حکومت نے سرگرم گورکھا گروپ کے ساتھ وسیع تر خود مختاری کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

default

نئی دہلی حکومت نے جس گورکھا گروپ کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دی ہے اس کا نام گورکھا جن مُکتی مورچہ ہے۔ اس گروپ کو انگریزی میں گورکھا پیپلز فریڈم فرنٹ یا GJM کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دارجیلنگ ضلع کے لیے ایک خودمختار حکومت کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہونے والا معاہدے پر فریقین نے دستخط سُکھنا نامی پہاڑی قصبے میں کیے۔

Darjeeling Unruhen Indien

دارجیلنگ میں ہڑتال کے بعد بازار بند ہو جاتے تھے

دستخط کی تاریخی تقریب میں مرکزی حکومت کے وزیر داخلہ پلانی اپن چدمبرم، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی اور گورکھا پیپلز فریڈم فرنٹ کے سربراہ بمل گورونگ بھی موجود تھے۔ اس معاہدے کے تحت جو نیا خود مختار علاقہ معرض وجود میں آئے گا اس کا نام گورکھا لینڈ علاقائی انتظامیہ ہو گا۔ اس کے لیے منتخب کی جانے والی اسمبلی میں پیینتالیس اراکین ہوں گے اور پانچ کو نامزد کیا جائے گا۔ دستخط کی تقریب کے بعد وزیر داخلہ چدمبرم نے معاہدے کی تفصیلات میڈیا کو بتائیں۔

معاہدے کے تحت گورکھا پیپلز فریڈم فرنٹ کو کئی معاملات پر مکمل کنٹرول ہو گا۔ ان میں پبلک ورکس، سیاحت،

Darjeeling Unruhen Indien

دارجیلنگ میں سکیورٹی دشستوں اور مظاہرین کے درمیان کشمکش چلتی رہتی ہے

سوشل ویلفیئر، زراعت اور صحت عامہ کے محکمے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ درمیانی سطح کے حکومتی ملازمین کی تعیناتی بھی اسی فرنٹ کے پاس ہو گی۔ اس کے علاوہ اسکولوں اور کالجوں میں ٹیچرز بھی GJM تعینات کرے گا۔اس معاہدے کے تحت مقامی انتظامیہ کو علاقائی ترقی کے لیے اگلے تین سالوں کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے چھ ارب روپوں کی امداد بھی دی جائے گی۔

گورکھا علاقے کی خودمختاری کے لیے تحریک سن 1980 کی دہائی میں شروع ہوئی تھی۔ اس تحریک میں تشدد کا عنصر بھی شامل رہا۔ مسلح تحریک کے دوران ایک ہزار کے قریب افراد موت کے منہ میں گئے۔ سن 1988 میں گورکھا ہِل کونسل کے قیام سے تحریک میں کمزوری پیدا ہوئی تھی لیکن پانچ سال بعد گورکھا لینڈ کی تحریک نے پھر سر اٹھا لیا تھا۔

تازہ معاہدے پر بھی بعض گورکھا شدت پسندوں نے مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ ان گروپوں نے دارجیلنگ اور ملحقہ علاقوں میں دو روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM