1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گورڈن براؤن بھی فون ہیکنگ سے نہ بچ سکے

برطانیہ میں فون ہیکنگ کا اسکینڈل طول پکڑتا جا رہا ہے۔ تازہ پیشرفت کے مطابق روپرٹ مرڈاک کے اخبارنے غیر قانونی ذرائع سےسابق وزیر اعظم گورڈن براؤن کی نجی زندگی سے متعلق بھی معلومات حاصل کی تھی۔

default

نیوز آف دی ورلڈ کے بعد اب انکشاف ہوا ہے کہ مرڈاک کی بین الاقوامی کمپنی نیوز کاپوریشن کے دوسرے برطانوی اخباروں دی سنڈے ٹائمز اور دی سن نے بھی فون ہیکنگ کے ذریعے نجی معلومات حاصل کیں۔ اس خبر کے بعد 80 سالہ مرڈاک کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا ہے، جو بڑی تگ و دو سے برٹش سکائی ٹیلی وژن کے حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

آسٹریلوی نژاد مرڈاک کی جانب سے برطانیہ کے سکائی ٹیلی وژن کے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کا معاملہ اب کٹھائی میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کہہ چکے ہیں کہ یہ معاملہ اب competition commission کو بھیجا جائے گا۔

سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ برطانوی پولیس نے انہیں معاملے کی پیشرفت سے آگاہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، ’’ گورڈن براؤن کی نجی زندگی میں مداخلت سے متعلق انہیں آگاہ کر دیا ہے۔‘‘

News of the World letzte Ausgabe

نیوز آف دی ورلڈ کا آخری شمارہ اتوار کو شائع کیا گیا تھا

انہوں نے مزید بتایا کہ براؤن خاندان اس مجرمانہ حرکت اور غیر اخلاقی ذرائع سے معلومات کے حصول کی کوشش پر حیرت زدہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق نیوز انٹرنیشنل کارپوریشن کے لیے کام کرنے والے نجی تفتیش کار گلین ملکائر نے اُس وقت گورڈن براؤن کے فون کو ہیک کیا، جب براؤن وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالے ہوئے تھے۔ مرڈاک کی کمپنی کے تحت برطانیہ میں چھپنے والے اخبارات نے قارئین سے درخواست کی ہے کہ وہ براؤن کے معاملے میں معلومات سے اخبار کو آگاہ کرے تاکہ کارروائی کی جائے۔

فون ہیکنگ معاملے کی تحقیقات کرنے والے سکاٹ لینڈ یارڈ نے اس بات پر زور دیا فی الحال معلومات کے اس مسلسل بہاؤ کا راستہ روکا جائے کیونکہ تحقیقات جاری ہیں۔ یہ بیان ممکنہ طور پر بی بی سی اور دیگر نشریاتی اداروں کی ان رپورٹوں سے متعلق ہے، جن میں پولیس پر بھی رشوت ستانی کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق ایسی ای میلز ملی ہیں، جن میں نیوز انٹرنیشنل کے صحافیوں نے پولیس کے لیے رقم کی فراہمی کی درخواستیں کی تھیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM