1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گورنر راج کے بعد پنجاب میں مظاہروں پر بھی پابندی

پاکستان میں معزول ججوں کی بحالی کے لئے وکلاء اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے مشترکہ لانگ مارچ سے پہلے صوبہ پنجاب میں گونر راج کے بعد منگل کی رات سے ہر قسم کے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

default

کیا مظاہروں پر پابندی سے لانگ مارچ کو ناکام بنایا جاسکے گا

سابق صدر پرویز مشرف کی طرف سے معزول کئے گئے ملکی عدلیہ کے اعلیٰ ترین ارکان کی بحالی کے لئے پاکستانی وکلاء نے جمعرات بارہ مارچ سے لے کر 16 مارچ تک مختلف شہروں سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک احتجاجی مارچ کا جو اعلان کررکھا ہے اس میں اپوزیشن کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون سمیت متعدد سیاسی پارٹیوں کی شمولیت کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت اس مارچ کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوششیں کررہی ہے۔

اس سلسلے میں سب سے زیادہ آبادی والے صوبہ پنجاب میں، جہاں قریب دو ہفتے قبل گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کردیا گیا تھا، منگل کی رات سے پورے صوبے میں ہر طرح کی احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

رینجرز کو چوکنا کردیا گیا

ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر اور صوبائی دارالحکومت لاہور کے کمشنر خسرو پرویز نے خبر ایجنسی AFP کو بتایا کہ صوبائی انتظامیہ کے فیصلے کے تحت اس پابندی کا آغاز منگل کو رات گئے ہو گیا اور ساتھ ہی امن عامہ کی صورت حال میں ممکنہ خرابی کے اندیشے کے پیش نظر رینجرز کے نیم فوجی دستوں کو بھی چوکنا کر دیا گیا یے۔

Pakistan Ehemaliger Premierminister Nawaz Sharif

مسلم لیگ نون کے رہنما نواز شریف

اس پابندی کے فورا بعد مسلم لیگ نون اور جماعت اسلامی سمیت کئی سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کے الزام لگایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ان کے کارکنوں کی گرفتاری کے لئے اندھا دھند چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں اور کارکنوں کو لانگ مارچ میں حصہ لینے سے روکنے کے لئے ریاستی ڈھانچہ انہیں ہراساں کرنے کی پوری کوششیں کررہاہے۔

شہباز شریف کا اعلان

احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں پر پابندی کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے کہا کہ مظاہروں پر پابندی کے با وجود وہ خود اور مسلم لیگی کارکن "لانگ مارچ میں شرکت کے لئے اپنی تیاریاں جاری رکھیں گے اور حکومت جتنے مرضی جمہوریت دشمن اقدامات کرے، ایسے غیر قانون اقدامات کی مخالفت کی جائے گی" اور لانگ مارچ کے پروگرام پر ہرحالت میں عمل درآمد کیا جائے گا۔