1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

گورباچوف ایوارڈ، بونو اور سپیلبرگ نامزد

آئرش روک سٹار بونو، معروف فلم ساز سٹیون سپیلبرگ اور سرچ انجن گوگل کے معاون بانی سرگئی بریِن کو گورباچوف ایوارڈ کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے۔

default

یُوٹُو بینڈ کے سنگر بونو

سابقہ سوویت یونین کے صدر میخائیل گوربا چوف کی 80 ویں سالگرہ پر پہلی مرتبہ دیے جانے والے ’میخائیل گورباچوف، جس نے دنیا کو بدل دیا‘ نامی ایوارڈ کے لیے جن دیگر شخصیات کو نامزد کیا گیا ہے، ان میں امریکی ٹیلی وژن چینل سی این این کے بانی ٹیڈ ٹرنر، پہلا موبائل فون بنانے والے مارٹین کوپر اور برازیل کے سابق صدر لولا ڈی سلوا بھی شامل ہیں۔

اولین امسالہ گوربا چوف ایوارڈ 30 مارچ کو لندن میں منعقد کی جا رہی ایک عظیم الشان تقریب میں دیا جائے گا۔ دو مارچ کو پیدا ہونے والے سابق صدر گورباچوف نے کہا ہے کہ یہ انعام ان شخصیات کو دیا جائے گا، جنہوں نے اپنے عمل سے دنیا کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے،’یہ ایوارڈ ان لوگوں کے لیے ہے، جنہوں نے ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ دنیا کو ایک بہتر رخ کی طرف موڑنے کے اہل ہیں‘۔

گورباچوف کی بیٹی اور اس انعام کمیٹی کی منتظم Irina Virganskaya کے بقول دنیا میں تبدیلی کے خواہاں لوگوں کی ستائش کی ضرورت ہے،’ ہمیں، سول سوسائٹی کو ایسی شخصیات کے ساتھ حمایت کا اظہار کرنا چاہیے‘۔ یہ انعام سالانہ بنیادوں پر ایسے لوگوں کو دیا جائے گا، جو کسی بھی شعبے میں انسانی ترقی اور بہبود کے لیے غیر معمولی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

Flash-Galerie Gorbatschow Museum THE KENNEDYS

گوربا چوف رواں برس دو مارچ کو 80 برس کے ہو گئے

کئی روسی باشندوں کے نزدیک گورباچوف سوویت یونین کے ٹوٹنے کے ذمہ دار ہیں، اس لیے ایسے لوگ انہیں تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ تاہم گورباچوف اپنے نظریات پر قائم ہیں اور انہوں نے ابھی حال ہی میں روسی وزیراعظم ولادیمیر پوٹن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں دوبارہ صدر کے عہدے کے لیے انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔

پوٹن جو 2000ء تا 2008ء تک دو مرتبہ صدارت کے عہدے کے لیے منتخب کیے گئے تھے، اب ملکی وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ آئندہ سال روس میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں وہ دوبارہ حصہ لیں گے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM