1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’گورا رنگ فتح کی ضمانت‘: متنازعہ اشتہار واپس لینا پڑا

رنگ گورا کرنے کی گولیاں تیار کرنے والی ایک تھائی کمپنی کو اپنا ایک متنازعہ اشتہار واپس لینا پڑا جس کی وجہ سوشل میڈیا پر نسل پرستی کے الزامات کے تحت بڑھنے والا دباؤ بنا۔

’سیئول سیکریٹ‘ رنگ گورا کرنے والے سپلیمنٹری تیار کرتی ہے۔ اس کمپنی نے اپنی گولیوں کے لیے ایک ایسا اشتہار تیار کیا جسے سوشل میڈیا پر نسل پرستانہ قراردیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی گئی۔ یہ صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ ’سیئول سیکریٹ‘ کو نہ صرف اپنا یہ اشتہار واپس لینا پڑا بلکہ اس نے معافی بھی مانگی ہے۔

اس اشتہار میں ایک معروف تھائی فنکارہ، گلو کارہ، DJ اور بالیٹ یا سنگت ناچ کی ٹیچراپنی پیشہ وارانہ کامیابیوں کا راز اپنا گورا رنگ بتاتی ہے۔ اس اشتہار کی ٹیگ لائن ہے،’’وائٹ میکس یو وینر‘‘۔ ’’جس کا مطلب ہے ’’گورا رنگ فتح کی ضمانت‘‘۔

اس اشتہار اور اس ٹیگ لائن سے تھائی لینڈ جیسے معاشرے میں، جہاں جلد کا رنگ بہت اہمیت کا حامل ہے، نسل پرستانہ رجحان کی مذمت کی ایک شدید لہر دوڑ گئی ہے۔

Symbolbild Hautaufhellung

گوری رنگت کے لیے مختلف ادوبات اور کریموں کا استعمال جنوبی ایشیائی معاشروں میں بھی عام ہے

تھائی لینڈ میں جلد کو نکھارنے یا گورا کرنے والی کریموں اور گولیوں کے استعمال کا بہت زیادہ رواج ہے۔ اس معاشرے میں گورے رنگ کو خوبصورتی کا معیار سمجھا جاتا ہے اور نہ صرف میڈیا میں اس رُجحان کی تشہیر ہوتی ہے بلکہ اکثر تھائی باشندے چلتے پھرتے رنگت پر آزادانہ تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں۔

گورا کرنے والی مصنوعات کے اشتہارات ٹیلی وژن پر تو نشر ہوتے ہی ہیں تاہم بل بورڈز پر ان کی تشہیر کا رواج تھائی لینڈ میں بہت زیادہ ہے تاہم گزشتہ چند سالوں کے دوران متعدد کمپنیوں کے اس طرح کے اشتہارات پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ ان پر الزامات ہیں کہ یہ اپنی مصنوعات کی تشہیر میں رنگ کے امتیاز جیسے حساس معاملے میں حد سے تجاوز کر رہے ہیں۔

دنیا بھر میں مذکورہ اشتہار کی ویڈیو اور اس کی ٹیگ لائن پر ہونے والے شور کے بعد ’سیئول سیکریٹ‘ کمپنی نے معافی کی درخواست کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا،''سیئول سیکریٹ اس ویڈیو کلپ کے اصلی مالک کی حیثیت سے اپنی غلطی کے لئے معذرت خواہ ہے اور اس واقعے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ ہماری کمپنی امتیازی یا نسل پرستانہ پیغامات کی تبلیغ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی نہ ہم آئندہ ایسا چاہتے ہیں۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’ہم اس ویڈیو سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ لوگوں کے لیے خود اپنی شخصیت کو نکھارنا، ظاہری طور پر بھی اور اپنے پیشہ وارانہ مہارت کو بہتر کرنا بھی کتنا ضروری ہے۔‘‘

Ausstellung Reconsidering Roma Flash-Galerie

جنوبی ایشیا میں لڑکیوں کے لیے بر تلاش کرنے میں بھی لڑکی کی رنگت پر خاص طور پر نظر رکھی جاتی ہے

دوسری جانب سیئول سیکریٹ کمپنی کی طرف سے معذرت کا پیغام شائع کرنے کے بعد اور جمعہ 8 جنوری کی دوپہر کو اس متنازعہ اشتہار کو واپس لیے جانے سے پہلے پہلے اس ویڈو کلپ کو یو ٹیوب پر ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے دیکھا اور اس کمپنی کے فیس بُک پیج کے بارے میں چھان بین کی گئی اور یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی کی جاتی رہی کہ رنگ گورا کرنے والی اس پراڈکٹ کو کس طرح آرڈر کیا جائے۔

DW.COM